خطبات محمود (جلد 30) — Page 255
1949ء 255 خطبات محمود حفاظت کرنے کے بدلہ میں اُن سے ٹیکس وصول کیا تھا لیکن جب دیکھا کہ اب انہیں حفاظت کرنے کا موقع نہیں ملے گا تو سب ٹیکس واپس کر دیئے۔ اتنے تدرین اور ورع 4 کی مثال اور کہیں نہیں ملتی ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم ان لوگوں کی خدمت کے لیے آئے تھے اگر ہم ان سے کوئی ٹیکس لیتے ہیں تو اُس خدمت کے لیے لیتے ہیں اور اگر ہمیں ان کی خدمت کرنے کا موقع نہیں ملا تو ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ ان کے ٹیکس اپنے پاس رکھیں ۔ یہ رب العلمین والی صفت تھی جو ان میں پائی جاتی تھی کہ وہ ہر نقطہ اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو بنی نوع انسان کا خادم سمجھتے تھے یہ مَحْيَايَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی کہیں اور نہیں مل سکتی ۔ باقی حکومتیں اور ادارے بھی دوسروں کے حقوق کی نگرانی کرتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں وہ ایسا کرتے ہیں لیکن یہ اُن کا ایسا کرنا خالص بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے ہو اور رب العالمین خدا کے لیے ہو اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ یہ کتا بڑا تغیر ۔ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا لیکن اتنا بڑا کام سوائے اسلامی تعلیم کا گہرا مطالعہ کرنے والے اور موت کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے کے کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ چھوٹے چھوٹے کاموں میں لالچ آ جاتی ہے۔ معمولی معمولی باتوں میں انسان کوشش کرتا ہے کہ اس کے آرام کی کوئی صورت نکل آئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَحْيَايَ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ نہ صرف میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے مقرر کیا گیا ہوں بلکہ دوسرے انبیاء پر مجھے یہ فوقیت حاصل ہے کہ میرے شہر اور علاقہ کے لوگ بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لیے آمادہ ہیں اور وہ اپنے فوائد کو بھول کر دوسروں کی ہمدردی الفضل 6 جنوری 1960ء ) میں مشغول رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 1 : الانعام: 163 2 : بخاری کتاب الرقاق باب التواضع 3 : فتوح البلدان بلاذری صفحه 143 ، 144 ۔ مطبوعہ قاہرہ 1319ھ 4 : ورع پر ہیز گاری (فیروز اللغات اردو )