خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 239

1949ء 239 (25) خطبات محمود کامل انسان وہ ہے جس کی سب قربانیاں خدا تعالیٰ کے لیے ہوں (فرموده 12 اگست 1949ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت کی : قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 اس کے بعد فرمایا: میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو مختلف قیود کے ساتھ مقید کر دیا ہے اور اسے ایسی صورت میں پیش کیا ہے کہ وہ عام نمازوں سے بہت بڑھ جاتی ہے اور یہی وہ صلوٰۃ ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے حاصل ہے۔ دوسری چیز جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے نسکی ہے۔ نُسُلٌ۔ یہ نَسِيكَةٌ کی جمع ہے جو نسک سے نکلا ہے۔ اور نُسُک کے معنے ہوتے ہیں کسی نیک کام کو بغیر اس کے کہ اس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو ، بغیر اس کے کہ اس کی ذمہ داری کسی پر ڈالی گئی ہو اپنی خوشی اور مرضی سے کسی شخص نے سرانجام دیا اور اس نیت سے کام کیا کہ خدا تعالیٰ کی رضا اسے حاصل ہو جائے ۔ اس مفہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے نَسِيكَة کا لفظ ایسی قربانی پر دلالت کرتا ہے جو خالصة لله ہو اور پھر اپنی خواہش، ارادے اور طبعی رغبت کے ماتحت کی جائے ۔ اس میں جبر اور حکم کا دخل نہ ہو۔ جبر اور حکم کے ماتحت