خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 240

* 1949 240 خطبات محمود جانے والی بھی اللہ ہو سکتی ہے لیکن وہ مشتبہ ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے کہ دیکھنے والا اس کے متعلق ایسا طبہ کر لے کہ شاید اگر حکم نہ دیا جاتا تو قربانی کرنے والا قربانی نہ کرتا۔پھر نَسینگ ایسے چاندی اور سونے کو بھی کہتے ہیں جس میں سے ہر قسم کی میل نکال دی ایرانی جائے۔اس لحاظ سے نسینگۃ کے معنے اس فعل کے بھی ہو سکتے ہیں جو ہر قسم کے نقص اور خرابی سے پاک ہو۔ہر زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ کسی لفظ کے جتنے معنے ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب اپنی ذات میں مستقل سمجھے جاتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان تمام معنوں میں روح ایک ہی پائی جاتی ہے اور ہر مفہوم دوسرے مفہوم سے مشابہت کے رشتہ سے وابستہ ہوتا ہے۔چنانچہ ایسا سونا اور چاندی جس ہو وہ میں سے ہر قسم کی میل نکال دی جائے نَسِيكَة کے مستقل معنے ہیں اور ایسی قربانی جو خالصة لله : بھی اس کے مستقل معنے ہیں اور ان دونوں معنوں کو اگر ملا کر دیکھا جائے تو دونوں مشابہت کے رشتہ سے آپس میں وابستہ ہیں کیونکہ ہر وہ قربانی جو مصفی ہو، غیر چیز کی اس میں ملونی نہ ہو محض للہ ہو، وہ قربانی بھی ہر قسم کے عیب اور نقص سے صاف ہو جاتی ہے اور ہر قسم کی میل سے صاف کی ہوئی چاندی لی اور سونے میں بھی یہی معنے پائے جاتے ہیں یعنی اس میں سے بھی غیر جنس کو نکال دیا جاتا ہے۔ان دونوں معنوں کو مد نظر رکھ کر یہاں نسیگہ کے معنے اس قربانی کے ہوں گے جو ہر قسم کی خرابی اور نقص سے پاک ہو، خالصہ اللہ ہو اور کوئی غیر چیز جس کے لیے قربانی نہیں ہونی چاہیے اس میں شامل نہ ہو۔پھر وہ قربانی طبعی رغبت سے ہو جبر اور حکم کا اس میں دخل نہ ہو۔خالصة لله قربانی اور عام قربانی میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔جب صرف قربانی کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد ہر قسم کی قربانی ہوتی ہے۔مثلاً اگر ہم کہیں کہ فلاں شخص نے اپنے بیوی نے بچوں کو بھوکا رکھا اور ماں باپ کی خدمت کی تو اسے بھی ہم قربانی ہی کہیں گے۔یہ نہیں کہ وہ کام جو ای ماسوی اللہ کے لیے کیا جائے۔قربانی کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی۔ماسوی اللہ کے لیے جو کام کیا جائے اس کے لیے بھی قربانی کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔احادیث میں آتا ہے کہ تین آدمی تھے جو کسی پہاڑی علاقہ میں سے گزر رہے تھے کہ طوفانِ بادوباراں آیا اور وہ ڈر کے مارے ایک غار میں چُھپ گئے۔جب وہ غار میں چھپے تو ایک بڑی سل ہوا اور بارش کے زور سے لڑھک کر اس کے دروازہ پر آگری اور اُن کا رستہ رُک گیا۔انہوں نے طوفان سے محفوظ رہنے کے لیے غار میں پناہ لی تھی