خطبات محمود (جلد 30) — Page 216
1949ء 216 خطبات محمود اور یہ کہا جاتا ہے کہ خوراک کی وجہ سے اس دنیا کا زیادہ دیر تک چلنا مشکل ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جنگ کے بعد غلہ کی قیمت گرنی شروع ہو جاتی ہے۔ پچھلی جنگ کے بعد لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ دنیا اب باقی نہیں رہ سکتی اب قیامت آجائے گی اور یہ دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی و لیکن 1928ء اور 1929 ء میں غلہ کی قیمت گر کر سوار و پیہ فی من پر آگئی تھی اور قیمت کم اُس وقت ہوتی ہے جب اُس کے خریدار کم ہوں ۔ 1928ء ، 1929 ء میں غلہ کی قیمت اتنی کم ہو گئی تھی کہ زمینداروں کے لیے حکومت کو مالیہ ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ مجھے یاد ہے ان دنوں ایک سیکھ رئیس میرے پاس آیا۔ وہ کانگرس سے ہمدردی رکھتا تھا۔ اس کے پاس ہیں پچیس مربع زمین تھی۔ اس نے کہا گانگرس سے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے حکومت مجھ سے دشمنی کرتی ہے آپ میری سفارش کر دیں۔ میں گندم کا ایک دانہ بھی نہیں اُٹھا تا سب گندم حکومت اُٹھائے لیکن مجھ سے مالیہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس وقت گندم کی قیمت کس حد تک گر گئی تھی اور یہ اُسی وقت ہوتا ہے جب کھانے والے کم ہوں ۔ ز گزشتہ سالوں میں جو قحط پڑے ہیں وہ عارضی حالات کا نتیجہ تھے۔ آبادی کا بہت سا حصہ ایسا تھا جو لڑائی کی وجہ سے اپنی جگہ چھوڑ کر دوسرے علاقہ میں بھاگ کر چلا گیا تھا اور اس طرح اس علاقہ میں پوری طرح کاشت نہ ہوسکی۔ یا لوگوں کے مکانات گر گئے تھے اور وہ جلد اپنے علاقوں میں دوبارہ نہ بس سکے جس کی وجہ سے پوری طرح کاشت نہ ہو سکی۔ اور بھی کئی قسم کی تباہیاں آئیں مثلاً بیچ نہیں مل سکتے تھے جس کی وجہ سے قحط کے آثار پیدا ہو گئے لیکن اب لوگ اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے ہیں اور کاشت میں جو روکیں تھیں وہ دُور ہو چکی ہیں۔ اس سے اب غلہ بڑھ رہا ہے لیکن قطع نظر اس سے کہ موجودہ زمین کی آمد دنیا کو پالنے کے لیے کافی ہے۔ قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اگر صحیح طور پر زمین کی طاقتوں کو استعمال کیا جائے تو چار پانچ سو من فی ایکڑ پیداوار ہو سکتی ہے۔ یہ بات بظاہر عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن مجھے ایک ماہر سائنسدان نے بتایا ہے کہ زمین کے نمک جن سے غلہ پیدا ہوتا ہے پوری طرح استعمال کیے جائیں تو گندم کی آمد دو سو من فی ایکڑ تک ہو سکتی ہے اور جب دو سو من فی ایکڑ آمد ہو سکتی ہے تو چار پانچ سو سومن فی ۔ من فی ایکڑ بھی نا ممکن نہیں ۔ اس وقت اوسط آمد آٹھ دس من فی ایکڑ سے بھی کم ہے لیکن اس مقدار