خطبات محمود (جلد 30) — Page 202
$1949 202 خطبات محمود جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وہ ایک بینظیر کام ہے۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سرداری کی اور اپنے اپنے وقت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمی طور پر نیابت کی۔لیکن اس قسم کے اور واقعات بھی کثرت سے چھوٹے صحابہؓ میں پائے جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں علم دین کے ماہر تھے وہاں آپ کو علم النفس میں بھی کمال کی دسترس حاصل تھی۔آپ جانتے تھے کہ کس طرح قوموں کو بیدار کیا جاتا ہے اور کس طرح انہیں کار ہائے نمایاں دکھانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔آپ بعض دفعہ مثلاً تلوار ہاتھ میں لے لیتے اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کرتے یہ تلوار ہے۔کون ہے جو اس تحفہ کا حق ادا کرے؟ صحابہ باری باری کھڑے ہوتے اور اپنے آپ کو اس کام کے لیے پیش کرتے۔آخر آپ ان میں سے اس شخص کو پہچان لیتے جو اس تلوار کا حق ادا کرنے والا ہوتا اور اسے وہ تلوار عنایت کر دیتے۔6 پھر وہ لوگ عجیب عجیب قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسی قربانیاں کہ ان کی واقعات کو پڑھ کر دل میں ایک خاص جوش پیدا ہوتا ہے اور مُردہ رگوں میں بھی زندگی کا خون دوڑ نے لگتا ہے۔پھر یہی واقعات دنیا کی عام تاریخ میں بھی ملتے ہیں۔غرض ہر کارے و ہر مردے اور ہر وقتے و ہر سخنے بڑا ہی صحیح مقولہ ہے۔خدا تعالیٰ اپنی ساری برکتیں کسی ایک شخص کے لیے مخصوص نہیں کر دیتا۔اس کی نظر عنایت ہزاروں ہزار پر ہے۔کسی موقع پر وہ کسی کو آگے آنے کا موقع ے دیتا ہے اور کسی وقت کسی کو آگے آنے کا موقع دے دیتا ہے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کتنی زیادہ مالی قربانی کرنے والے تھے لیکن ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک مالی جنگ کی تیاری کے لیے روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور آپ نے فرمایا کہ کوئی ہے جو اپنے مال سے جنت خریدنا چاہے تو خدا تعالیٰ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو موقع دے دیا اور آپ نے اپنا اکثر مال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا۔وہ مال کوئی بارہ ہزار دینار کے قریب تھا جو آجکل کے لاکھوں روپے کے برابر ہے۔7 غرض ہر وقت اور ہر زمانہ کے لیے کوئی نہ کوئی اور مخصوص شخص ہوتا ہے جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی برکات حاصل ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنے زمانہ کے لیے بطور یادگار بن جاتا ہے۔اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مبعور۔حوث