خطبات محمود (جلد 30) — Page 201
خطبات محمود 201 * 1949 مگر یہی عمر جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک خطرہ کی حالت میں ڈر گئے تھے اور جنہوں نے حضرت ابوبکر سے یہ درخواست کی تھی کہ لڑائی کرنے کی بجائے صلح کر لی جائے جب ان کا اپنا زمانہ آتا ہے تو جو کام انہوں نے کیا وہ انہی کا حصہ تھا۔ان کا غیر وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔وہی ہے ارتداد کے فتنہ سے ڈر جانے والا عمرؓ جب خلافت کے مسند پر آتا ہے اُس وقت دنیا میں دو بڑی کی سلطنتیں تھیں۔آدھی دنیا پر ایران قابض تھا اور آدھی دنیا پر روم کی سلطنت تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں لڑائیاں ہوئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں پھیل گئیں لیکن پھر بھی وہ اس شدت کو نہیں پہنچی تھیں جس شدت کو وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں پہنچیں۔حضرت عمرؓ کو یہ خبر پہنچی کہ ایرانیوں نے مسلمانوں پر چھاپا مارا ہے۔لوگوں نے کہا یہ وقت نازک ہے روم سے لڑائی ہو رہی ہے اور ایران کی حکومت بھی حملہ آور ہونے کی تیاریاں کر رہی ہے اس وقت ہمیں اس جھگڑے کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ایران سے لڑائی کرنے کا یہ موقع نہیں کیونکہ یک وقت میں دنیا کی دو بڑی سلطنتوں سے لڑائی کرنا ہمارے لیے آسان نہیں لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں اسلام کو ذلیل نہیں ہونے دوں گا۔میں ایک ہی وقت میں دونوں کا مقابلہ کروں گا۔ایران میں جسر کی خطر ناک شکست کے بعد جب مسلمانوں کا سارا لشکر تہہ تیغ ہو گیا تھا اور باقی لشکر شام کی طرف گیا ہوا تھا مدینہ سے صرف تین سو آدمی مل سکتے تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں ان تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر ہی ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے جاؤں گا۔مگر اُس وقت حضرت علی اور دوسرے صحابہ کے اصرار کے بعد آپ خود جانے سے رُک گئے مگر تھوڑے سے لشکر کو ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بھجوا دیا۔پھر حضرت عثمان کا زمانہ آیا تو وہ بھی اپنے وقت کے بہترین انسان ثابت ہوئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ شہید ہوئے لیکن ان کی شہادت کے واقعات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سینے میں ایک مضبوط دل تھا اور ان کے اندر وہ دلیری اور حوصلہ پایا جاتا تھا جو عام انسانی برداشت سے بالکل باہر ہے۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں جو کام کیا وہ درحقیقت حضرت علی کا ہی حصہ تھا اور کوئی دوسرا شخص اس کام کو سرانجام نہیں دے سکتا تھا۔خوارج کے فتنہ کا عملی اور علمی مقابلہ