خطبات محمود (جلد 30) — Page 175
* 1949 175 خطبات محمود صفوں میں شامل ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کر رہا تھا۔مگر پھر میں نے کہا اس دنیوی بادشاہت میں کیا رکھا ہے۔1 ( حضرت معاویہ کے زمانہ سے اسلامی خلافت کا سلسلہ نہیں رہا تھا تاہی بلکہ دنیوی بادشاہت مسلمانوں میں آگئی تھی۔یہ ایک دنیا سے تعلق رکھنے والی چیز ہے اس کے لی لیے میں مسلمانوں میں تفرقہ اور انشقاق کیوں پیدا کروں؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہ ارادہ بتاتا ہے کہ وہ یزید کی بادشاہت کو نادرست سمجھتے اور اسے لوگوں پر ایک ظلم قرار دیتے تھے۔لیکن ان کا جی مقابلہ ترک کر دینا بتاتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام نے صرف مقابلہ کا ہی حکم نہیں دیا بلکہ بعض مصلحتوں کے ماتحت ظلم کو برداشت کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت ہے کہ اگر تمہیں کوئی شخص تھپڑ مارے تو تم بھی اسے تھپڑ مارو وہاں اُس نے یہ بھی کہا تھ ہے کہ اگر تم مقابلہ کرنا مصلحت کے خلاف سمجھو تو تم چپ رہو اور تھپڑ کا تھپڑ سے جواب مت دو۔پس وہ دلیل جو عام طور پر ان جنگوں کے متعلق پیش کی جاتی ہے اس سے حضرت ابوبکر ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان پر دشمن کے الزام کا دفاع تو ہو جاتا ہے، یہ تو پتا لگ جاتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے ظلم نہیں کیا بلکہ قیصر نے ظلم کیا، حضرت عمرؓ نے ظلم نہیں کیا بلکہ کسری نے ظلم کیا ، حضرت عثمان نے ظلم نہیں کیا بلکہ افغانستان اور بخارا کی سرحد پر رہنے والے قبائل اور گر دوں وغیرہ نے ظلم کیا لیکن اس امر کی دلیل نہیں ملتی کہ حضرت ابو بکر نے ان کو معاف کیوں نہ کر دیا؟ حضرت عمر نے ان کو معافی کیوں نہ کر دیا ؟ حضرت عثمان نے ان کو معاف کیوں نہ کر دیا ؟ جب وہ مقابلہ کے لیے نکلے تھے تو وہ قیصر سے کہہ سکتے تھے کہ تمہاری سپاہ سے فلاں غلطی ہو گئی ہے اگر اس کے متعلق تمہاری حکومت کی ہم سے معافی طلب کرے تو ہم معاف کر دیں گے اور اگر معافی طلب نہ کرے تو ہم لڑائی کریں گے۔انہوں نے قیصر کے سامنے یہ پیش نہیں کیا کہ تم سے یا تمہاری فوج کے ایک حصہ سے فلاں موقع پر ظلم ہوا ہے اور چونکہ ہماری تعلیم یہ بھی ہے کہ دشمن کو معاف کر دو اس لیے اگر تم معافی مانگو تو ہم معاف کرنے کے لیے تیار ہیں بلکہ جب اس نے ظلم کیا وہ فوراً اس کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہو گئے اور پھر اس مقابلہ کو جاری رکھا۔جب کسری کے سپاہیوں نے عراقی سرحد پر حملہ کیا تو سیاسی طور پر اس کے بعد صحابہ اور کسری کے درمیان جنگ بالکل جائز ہوگئی لیکن اخلاقی طور پر حضرت عمرؓ کسری کو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ شاید تم نے اس حملے کا حکم نہ دیا ہو بلکہ سپاہیوں نے خود بخو دحملہ کر دیا ہو اس