خطبات محمود (جلد 30) — Page 168
* 1949 168 خطبات محمود آواز اچھی طرح نہیں پہنچتی تھی اس لیے وہ کھڑے ہو گئے تا کہ آپ کی آواز سُن سکیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے بالکل محروم ہو گئے۔نہ وہ آواز سن سکتے تھے اور نہ آپ کی شکل دیکھ سکتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا کہ کھڑے ہونے والوں نے بعد میں آنے والوں کو بالکل محروم کر دیا ہے تو آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔آپ نے جب کہا بیٹھ جاؤ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود جو اُس وقت مسجد کی طرف آرہے تھے وہیں گلی میں ہی بیٹھ گئے اور چونکہ انہوں نے مسجد میں لیکچر سننے کے لیے ضرور پہنچنا تھا اس لیے انہوں نے بچوں کی طرح گھسٹ گھسٹ کر مسجد کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔جب دوسرے لوگوں نے انہیں گھسٹتے ہوئے دیکھا تو انہیں تعجب ہوا۔چنانچہ کسی شخص نے ان سے کہا آپ یہ کیا حرکت کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا میں گلی میں آرہا تھا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی بیٹھ جاؤ اس لیے میں بیٹھ گیا اور چونکہ میں مسجد میں پہنچ کر آپ کا لیکچر سننا چاہتا ہوں اس لیے میں نے گھسٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے۔اس شخص نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مُراد تو ان لوگوں سے تھی جو مسجد میں موجود تھے آپ سے تو نہیں تھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا ٹھیک ہے۔میں سمجھتا ہوں ایسا ہی ہوگا۔لیکن اگر میں مسجد میں نہ پہنچ سکوں اور راستہ میں ہی مر جاؤں تو یہ حسرت باقی رہ جائے گی کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم نہیں مانا۔6 یہی جذبہ تھا جس کی وجہ سے صحابہ نے اپنے افکار اور اعمال کو مکمل کر لیا اور بہت زیادہ ثواب حاصل کیا۔ہماری جماعت کو بھی چاہیے کہ وہ دین سیکھنے کی کوشش کرے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے نہ پڑی رہے۔بعض دفعہ ایک آدمی لغو بحث شروع کر دیتا ہے اور بسا اوقات بڑی بڑی باتوں کو چھوڑ دیتا ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آمین اونچی کہنا یا نیچی کہنا، رفع یدین کرنا یا نہ کرنا، ہاتھ سینہ پر باندھنا یا سینہ سے نیچے باندھنا یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، ان پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں۔ان سب طریقوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے۔صحابہ میں سے کسی کی طبیعت ایک طرف مائل ہوگئی اور کسی کی طبیعت دوسری طرف مائل ہو گئی۔مگر مسلمان ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے پڑے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہم باتوں کی طرف ان کی توجہ نہ رہی۔