خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 167

* 1949 167 خطبات محمود آئندہ کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔اب دیکھو یہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات تھی مگر اس کے لیے حضر نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جیسے عظیم الشان صحابی کے گلے میں پڑکا ڈال دیا اور وہ انہیں کھینچ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ہمارے ہاں کوئی ایسی بات ہو تو کہہ دیا جاتا ہے۔چلو ! یوں کہہ لیا یا دوں کہہ دیا۔اس میں کیا حرج ہے؟ غرض حقیقت کو سمجھ کر اگر عمل کیا جائے تو انسان بہت سی غلطیوں سے بچ جاتا ہے۔اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس کے نتیجہ میں ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے جیسے کوئی مکان بنائے تو اس کی دو دیوار میں ہوں۔اس سے اس کا سامان محفوظ نہیں رہ سکتا۔ہوائیں اس کے مکان کو اُڑا کر لے جائیں گی، کیڑے اس کے مال کو ضائع کر دیں گے، بارش کی نمی اس کا ستیا ناس کر دے گی ، چور اُس کی کا مال اُٹھا کر لے جائیں گے۔اسی طرح جو فکر اور عمل ٹھیک طور پر استعمال نہ ہو اس کا نتیجہ بھی اچھا کی نہیں نکل سکتا۔پس مومن جب کسی چیز کو اہم قرار دے تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کی اہمیت کو پوری طرح سمجھے۔تم شریعت کو سمجھنے اور اس پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کرو۔اگر اس میں کوئی کی نقص رہ جائے گا تو تمہارے ثواب میں یقیناً کمی آجائے گی۔صحابہ اس بارہ میں نہایت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ایک دفعہ ایک جنازہ آیا جب نماز جنازہ ختم ہوگئی اور لوگ واپس لوٹنے لگے تو ایک مالی صحابی نے کہا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص نماز جنازہ میں شامل ہوتا ہے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے اور اگر وہ جنازہ کے ساتھ قبر تک جاتا ہے اور میت کے دفن ہونے تک وہاں انتظار کرتا ہے اور دعا کر کے واپس آتا ہے تو اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ قیراط سے رتی مراد نہیں بلکہ یہ قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔دوسرے صحابی جو پاس کھڑے تھے وہ خفا ہو کر بولے کہ تم نے ہم پر بہت ظلم کیا اگر تم نے یہ بات کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی تھی تو تمہارا فرض تھا کہ ہمیں بھی بتاتے۔معلوم نہیں ہم نے کی اب تک کتنے اُحد ثواب کے ضائع کر دیئے ہیں۔5 تو دیکھو! صحابہ کس طرح چھوٹی سے چھوٹی کی بات کو یا در کھتے اور اس کی تعمیل کرتے تھے۔ان کی سب بڑائی اسی میں تھی۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں لیکچر فرما رہے تھے کہ مسجد میں آدمی زیادہ ہو گئے اور جو لوگ کناروں پر تھے انہیں چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی