خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 145

خطبات محمود 145 $1949 غرض منافقت سب سے بڑی مرض ہے۔دنیا کی تمام خرابیاں اسی سے پیدا ہوئی ہیں۔اور سنجیدگی اور بہادری سے تقوی پیدا ہوتا ہے۔تم ان باتوں پر غور کرنے کی عادت ڈالو اور دیکھو کہ آیا تم میں منافقت تو نہیں پائی جاتی ؟ اگر تم اپنے آپ میں منافقت کی علامات پاتے ہو تو اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرو۔دوسرے منافق ہمسایہ کو منہ لگانے کی عادت چھوڑ دو اور اس سے بچنے کی کوشش کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں چک سکندر ضلع گجرات کے چند آدمی قادیان جایا کرتے تھے۔ان کے قلندر خان اور سمندر خان وغیرہ نام تھے۔وہ نہایت مخلص احمدی تھے اور ایک ساتھ قادیان جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ان میں سے دو تین آدمی قادیان گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ماموں زاد بھائی تھے وہ عمو بادرود وغیرہ کرتے رہتے تھے اور باغبانی کا انہیں شوق تھا۔ان کی باغیچی بڑے باغ کے راستے میں تھی۔اُس زمانہ میں لوگ تبر گا باغ کی زیارت کرتے تھے اس لیے کہ وہ آپ کے والد صاحب کا لگایا ہوا تھا۔یہ لوگ بھی کی وہاں زیارت کے لیے گئے۔ان میں سے ایک جلدی جلدی قدم اُٹھائے چلا جارہا تھا اور باقی دو اُس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے کہ ان میں سے جو شخص آگے پہنچا وہ ہمارے چچا کے پاس گیا۔ہمارے چچا کو دوسرے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے ورغلانے کی عادت تھی۔انہوں نے اُس شخص سے کہا میاں ! تم یہاں کیوں آتے ہو؟ کیا مرزا صاحب سے ملنے آئے ہو؟ یہ تو محض دکانداری ہے۔مرزا صاحب میرے رشتہ دار ہیں اُن کا خیر خواہ مجھ سے زیادہ اور کون ہوگا ؟ اگر وہ بچے ہوتے تو ہم کیوں ایمان نہ لے آتے تم کیوں اپنی عاقبت خراب کرتے ہو؟؟ یہ تو روپیہ کمانے کا ایک ذریعہ ہے، دکانداری ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔اُس دوست نے اپنے دوسرے بھائیوں کو جو اُس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے بلانا شروع کیا اور کہا جلد آؤ جلد آؤ۔ہمارے جار چچانے یہ سمجھا کہ یہ شخص مجھ سے متاثر ہو گیا ہے اور اب اپنے دوسرے ساتھیوں پر اپنا اثر ڈالنا چاہتا۔جب وہ دونوں قریب آئے تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے اپنا ہاتھ ہمارے چچا کے ہاتھ میں دیا ہوا تھا اس نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہو کر کہا قرآن کریم میں جب شیطان کا ذکر آتا تھا تو ہم حیران ہوتے تھے اور ہمیں شوق پیدا ہوتا تھا کہ شیطان کی شکل دیکھیں۔خدا تعالیٰ لکھتا