خطبات محمود (جلد 30) — Page 126
1949ء 126 خطبات محمود ہو سکتا کہ وہ زندہ بھی ہو اور اس میں اتنی محنت نہ پائی جاتی ہو جتنی مُردوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ زندہ بھی ہو اور اس میں اتنا رحم نہ پایا جائے جتنا مردوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر تم اپنے آپ کو زندہ سمجھتے ہو تو تمہارا معیار انصاف، تمہارا معیار رحم ، تمہارا معیار عدل ، تمہارا معیار سلوک اور تمہارا میعار احسان اور رحم بہر حال مردوں سے زیادہ بالا ہوگا ۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ تمہیں زندہ کہا جائے ۔ آخر مردہ کے یہاں یہ معنی تو نہیں کہ اس کی روح نکل گئی ہو، اس کی آنکھ دیکھ نہ سکتی ہو، اس کے کان سُن نہ سکتے ہوں اور اس کا جسم حرکت نہ کر سکے۔ اور نہ زندہ کے یہ معنی ہیں کہ اس کا جسم حرکت کرتا ہو، اس کی آنکھیں دیکھتی ہوں ، اس کے کان سنتے ہوں اور اس کے ساتھ ارتقاء اور تنزل کا سلسلہ لگا ہوا ہو۔ یہاں وہ معنی مراد نہیں۔ یہاں اس سے روحانیت کا نکل جانا مراد ہے، اخلاق فاضلہ کا مٹ جانا مراد ہے۔ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے اندر روحانیت بھی نہ ہو، تمہارے اندر اخلاق فاضلہ بھی نہ پائے جائیں اور پھر تمہیں زندہ کہا جائے اور تمہارے دشمن کو جس میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں مردہ کہا جائے۔ اور اگر وہ باتیں تم میں بھی پائی جاتی ہوں لیکن تم اپنے دشمن سے پیچھے رہ گئے ہو تب بھی اس کے مقابلہ میں تمہیں زندہ نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مردہ تو چلتا ہو اور زندہ سارا دن ایک جگہ پڑا ر ہے۔ مردہ تو آنکھیں کھولتا ہو اور دیکھتا ہو مگر یہ نہ دیکھتا ہو، مردہ سُنتا ہو خواہ وہ کچھ اونچا ہی سُنتا ہولیکن سُنتا ضرور ہومگر یہ نہ سُنتا ہو۔ یہ تو ویسے ہی حماقت ہوگی جیسے ہمارے سکول کے بعض لڑکوں نے کی ۔ جب ہم سکول میں پڑھا کرتے تھے اُس زمانہ میں ہمارا سکول چھوٹا سا تھا اور ہیڈ ماسٹر اور بورڈنگ کا سپرنٹنڈنٹ ایک ہی تھا۔ سکول میں تھوڑے سے لڑکے تھے۔ ایک دن اس کے اسسٹنٹ سے کسی نے شکایت کی کہ عشاء کی نماز میں بورڈنگ کے لڑکے بہت تھوڑے آتے ہیں۔ یہ شکایت زیادہ پھیلی اور ہیڈ ماسٹر کے کانوں تک بھی پہنچی۔ اس نے اصل انچارج سے پوچھا کہ لڑکے عشاء کی نماز میں کیوں نہیں جاتے؟ انچارج نے کہا لڑ کے نماز میں جاتے تو ہیں لیکن بڑے جاتے ہیں اور چھوٹے لڑکے سو جاتے ہیں اور میں انہیں چھوڑ جاتا ہوں ۔ ہیڈ ماسٹر نے پوچھا ایسے لڑکے کتنے ہیں جو نماز میں نہیں جاتے؟ اس نے کہا انہیں۔ ہیڈ ماسٹر نے کہا اچھا میں کسی دن آؤں گا اور دیکھوں گا کہ کون کون لڑکے نماز میں نہیں جاتے۔ وہ ایک دن بورڈنگ میں گئے۔ لڑکے سو رہے تھے۔ وہ پائنتی کی طرف