خطبات محمود (جلد 30) — Page 125
$ 1949 125 خطبات محمود ایسی نہیں جسے یہ اپنے غیر کے پاس جانے دے۔گویا اس کا مطلب یہ تھا کہ ہر خوبی اور ہر حسن کے مالک مسلمان ہی ہوں گے لیکن اب تو یہ ہے کہ كَلِمَةُ الحِكْمَةِ ، مسلمان کے لیے نفرت کی جگہ ہے اور اس کی حد سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے۔اگر یہ اس کی جیب میں بھی ہو تو وہ اسے پھینک دیتا ہے ہے۔اگر یہ اس کے گھر میں بھی ہو تو وہ اسے نکال دیتا ہے اور جب تک وہ اسے اپنے سے جدا نہ کرے اُسے چین نہیں آتا۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کیا مردے زندوں کے برابر ہو سکتے ہیں؟ اب یا تو یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی بھی ایک مسلمان اس درجہ تک نہیں پہنچ سکا جس کی طرف اس فقرہ میں اشارہ کیا گیا ہے اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ آج کا مسلمان وہ مسلمان نہیں رہا جس کے متعلق یہ فقرہ استعمال کیا گیا ہے لیکن پرانے مسلمان کے متعلق یہ فقرہ صحیح اور درست تھا۔گویا آج کا مسلمان عملاً مسلمان ہی نہیں کہ اس کے متعلق یہ فقرہ کہا گیا ہو۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہنا پڑے گا کہ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ مُردے زندہ کے برابر نہیں ہو سکتے۔مگر یہ نہیں کہا کہ مُردوں مُردوں میں بھی فرق نہیں ہوتا۔پہلے مسلمان زندہ تھے اور غیر مسلم زندہ نہیں تھے۔لیکن اب یہ بھی مُردہ ہیں اور وہ بھی مُردہ ہے ہیں۔یہ بھی حقیقت سے دُور ہیں اور وہ بھی حقیقت سے دُور ہیں لیکن مُردوں مُردوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔دو تین دن کا مُردہ تازہ مُردہ کے برابر نہیں ہو سکتا۔تین چار دن کا مُردہ تو سڑ رہا ہوگا اور اس میں سے بدبو آرہی ہوگی اور تازہ مُردہ اُس سے بہر حال اچھا ہوگا۔خواہ وہ مُردہ ایک مسلمان کا ہو یا ایک عیسائی کا ہو۔ایک مسلمان کے مُردے میں بھی سڑ جانے کے بعد کیڑے پڑ جائیں گے اور ایک عیسائی کے مُردہ جسم میں بھی سڑ جانے کے بعد کیڑے پڑ جائیں گے۔گویا اب یہ کہنا پڑے گا کہ قرآن کریم نے یہ تو کہا ہے کہ مُردے زندوں کے برابر نہیں ہو سکتے مگر یہ نہیں کہا کہ مسلمان کی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔اور اگر یہ نہیں کہا کہ مسلمان ہمیشہ زندہ رہیں گے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ بھی کسی وقت مُردہ ہو جائیں گے اور قرآن کریم نے یہ کب کہا ہے کہ مُردوں مُردوں میں فرق کی نہیں ہوسکتا۔ایک مسلمان کا مُردہ بھی خراب ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ مسلمان صداقت کی سے بے بہرہ ہو کر کبھی زیادہ خراب ہو جائیں گے اور کبھی کم۔لیکن بہر حال جو قوم اپنے آپ کو زندہ کی سمجھتی ہے اُس کو مُردوں کے مقابلہ میں اپنے کیریکٹر کا معیار زیادہ اچھا رکھنا پڑے گا۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ زندہ بھی ہو اور اس میں اتنی سچائی نہ پائی جائے جتنی مُردوں میں پائی جاتی ہے۔یہ نہیں