خطبات محمود (جلد 30) — Page 101
$1949 101 خطبات محمود جنہیں دو پہر کو بھی کھانا نہیں ملا تھا اور وہ رات بھی انہوں نے بغیر کھانے کے گزار دی۔مگر بجائے اس کے کہ ان کی طبائع میں شکوہ پیدا ہوتا انہوں نے اس تکلیف کو بخوشی برداشت کیا۔پھر دوسرا دن بھی اسی طرح گزرا۔دوسرے دن بھی کھانا تیار کروانے کی بظاہر کوئی صورت نہیں تھی۔آخر میں نے افسروں کو سرزنش کی اور انہیں مختلف تدابیر بتائیں، اپنے بیٹوں کو اس کام پر لگایا اور بالآخر بعض ایسی تدابیر نکال لی گئیں جن کے ذریعہ اگر پیٹ بھر کر نہیں تو کچھ نہ کچھ کھانا ضرور مل گیا۔مثلاً ہمارے ملک میں ایک آدمی کی عام غذا تین روٹی ہے۔لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا کہ بجائے تین تین روٹی کے دو دو روٹیاں دی جائیں۔پھر یہ تدبیر بھی اختیار کی گئی کہ نانبائیوں ٹھیکہ کر لیا گیا کہ اگر وہ اتنا کھانا تیار کر دیں تو انہیں مزدوری کے علاوہ انعام بھی دیا جائے گا۔اس ނ طرح اُن غریب آدمیوں نے لالچ کی وجہ سے کام کیا اور ہمارے جلسہ کے دن گزر گئے۔غرض ان تمام تکلیفوں کے باوجود ہمارے لوگوں کا بشاشت کے ساتھ وہاں بیٹھے رہنا بتاتا ہے کہ یہ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے تھا۔پانی کے لیے جو ہم نے نلکے لگوائے تھے وہ تمام نا کام گئے۔البتہ پانی کے لیے جو سرکاری انتظام کیا گیا تھا اُس سے بہت کچھ فائدہ ہوا۔لیکن پانی استعمال کرنے کی ہمارے لوگوں کو جتنی عادت ہوتی ہے اتنا پانی پھر بھی مہیا نہ ہو سکا۔رہائش کی یہ حالت ہے تھی کہ جن بارکوں میں ساڑھے چار ہزار عورتوں کو رکھا گیا تھا اُن کے متعلق دیکھنے والا یہ تسلیم ہی ہے نہیں کرتا تھا کہ ان بارکوں میں اتنی عورتیں رہ سکتی ہیں۔جن بارکوں میں عورتوں کو ٹھہرایا گیا تھا وہ گل سولہ تھیں۔اُن میں اگر لوگوں کو پاس پاس بھی سُلا دیا جائے تو صرف دو ہزار آدمی آ سکتا ہے لیکن جلسہ پر جو عورتیں وہاں ٹھہری تھیں وہ ساڑھے چار ہزار کے قریب تھیں۔یہ اس طرح ہوا کہ انہوں نے سامان اندر رکھ دیا اور آپ باہر سو کر گزارہ کر لیا۔مردوں کا حال اس سے بھی بُرا تھا۔تمام مرد بارکوں کے اندر سو نہیں سکتے تھے اس لیے مردوں کو عورتوں سے زیادہ تکلیف ہوئی۔کچھ گنجائش اس طرح بھی تھی نکل آئی کہ میری تحریک کے ماتحت بعض دوست اپنے ساتھ بانس، کیلے اور رستلی 1 لے آئے اور خود کی خیمے لگا کر انہوں نے جلسہ کے دن گزارے۔مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے بھی یہ تحریک کر دی گئی ہے۔چنانچہ میں نے جب جلسہ کے انتظامات دیکھنے کے لیے چکر لگایا تو بہت سے خیمے لگے ہوئے تھے۔میرا خیال ہے کہ وہ سو ڈیڑھ سو کے قریب ہوں گے۔پھر کچھ لوگ چنیوٹ ٹھہر گئے اور