خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 72

$1949 72 خطبات محمود احساس رکھتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اسلامی رنگ میں رنگین کرے اور اپنے ہمسایوں کے بچوں کا بھی خیال رکھے۔جب بھی موقع ملے بچوں کو بتانا چاہیے کہ نماز یوں پڑھنی چاہیے، روزہ اس کی طرح رکھنا چاہیے، زکوۃ کے متعلق اسلام کے یہ احکام ہیں، حج اس طرح کیا جاتا ہے۔اسی طرح کی کھانا کھانے کے آداب بتانے چاہیں۔انہیں نصیحت کرنی چاہیے کہ کھانا کھانے لگو تو بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہو۔کھانا ختم کرو تو الحَمدُ لِلهِ کہو۔سونے لگو تو یہ دعائیں پڑھ کر سوؤ۔اٹھو تو یہ دعا پڑھو۔کسی سے ملاقات کرو تو اس طرح کرو۔کوئی تحفہ دے یا تمہارا کام کر دے تو جَزَاكَ الله کہو۔یہ ساری چیزیں بچوں کے ذہن نشین کرنی چاہیں اور بار بار انہیں اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہیے۔اس کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ ایک ایسا قومی کیریکٹر پیدا ہو جائے گا کہ احمدی بچوں اور دوسرے بچوں میں آپ ہی آپ فرق محسوس ہونے لگے گا اور لوگ ہمارے بچوں کو دیکھتے ہی پہچان لیں گے کہ یہ احمدی بچے ہیں۔ایک چھوٹی سی بات میں دیکھ لو ابھی ایسے کئی احمدی ہیں جو داڑھی نہیں رکھتے لیکن بہر حال ی دوسروں کی نسبت ہماری جماعت کے لوگ زیادہ اہتمام سے داڑھیاں رکھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف داڑھی کی وجہ سے ہی اکثر لوگ احمدیوں کو پہچان لیتے ہیں۔اسی طرح جب ہمارے بچے اور نوجوان دوسروں کی چھوٹی چھوٹی خدمت پر جزاک اللہ کہیں گے، بڑوں کا ادب اور احترام کریں گے، خدا تعالیٰ کا ذکر ان کی زبانوں پر جاری رہے گا، نماز کی پابندی کریں گے صحیح طور پر خشوع و خضوع کی عادت اختیار کریں گے تو یہ ساری چیزیں مل کر ایک ایسا اشتہار بن جائیں گی جس سے وہ فوراً پہچانے جاسکیں گے۔اب تو لوگ صرف داڑھی دیکھ کر پوچھتے ہیں کہ " کیا آپ احمدی ہیں؟ مگر پھر ان آداب اور اسلامی شعائر کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ شخص ضرور احمدی ہے۔گویا یہ جو دغدغہ 3 اور شک لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ شاید کسی اور نے بھی داڑھی رکھ لی ہو اور یہ احمدی نہ ہو دُور ہو جائے گا۔مگر یہ کیریکٹر قوم کی درستی سے پیدا ہوتا ہے کسی فرد کی درستی سے پیدا ا نہیں ہوتا۔مجھے یاد ہے کہ ایک چیف کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے مجھے ایک دفعہ سنایا کہ میں ایک دفعہ دورہ پر گیا تو ایک سب حج صاحب جنہوں نے داڑھی رکھی ہوئی تھی مجھے ملے۔