خطبات محمود (جلد 30) — Page 62
* 1949 22 62 خطبات محمود کہا تھا۔یعنی تم کو آتھم زندہ نظر آتا ہو گا مجھے تو وہ مردہ نظر آتا ہے اور میں تو اپنی آنکھوں سے اُس کی لاش دیکھ رہا ہوں۔تم بھی کہو کہ ہماری آنکھیں غلطی کر رہی ہیں، ہمارا دل غلطی کر رہا ہے، ہمارا دماغ غلطی کر رہا ہے مگر خدا غلطی نہیں کرتا۔جو کچھ وہ کہتا ہے سچ کہتا ہے۔جو کچھ ہمارا دل کہتا ہے وہ جھوٹ ہے ہے اگر وہ اس کے خلاف محسوس کرتا ہے۔جو کچھ ہمارا دماغ کہتا ہے وہ جھوٹ ہے اگر وہ اس کے خلاف رائے رکھتا ہے۔سچ وہی ہے جو خدا نے کہا۔پس اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور اپنے عقیدہ کی شہادت کے طور پر اپنی قربانیوں کے معیار اور اپنے کاموں کی رفتار کو اور بھی بڑھاؤ تا دنیا کو یہ محسوس ہو کہ جماعت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتی ، اپنے دل سے کوئی رائے قائم نہیں کرتی ، اپنے دماغ کے پیچھے نہیں چلتی بلکہ صرف خدا تعالیٰ کی طرف اپنی نگاہ رکھتی ہے۔جب دنیا نہیں دیکھتی اُس وقت تک تم دیکھتے ہو۔جب دنیا مایوس ہو رہی ہوتی ہے اُس وقت تم پر امید ہوتے ہو۔جب دنیا اتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہوئی ہوتی ہے اُس وقت تم اپنے قدم اٹھائے اور بھی تیز رفتاری کے ساتھ چلنا شروع کر دیتے ہو۔یہ کیفیت تم اپنے اندر پیدا کر لو تو یقیناً خدا تعالیٰ کے فضل پہلے سے بھی زیادہ (الفضل 3 اپریل 1949ء) تیزی سے تم پر نازل ہونے لگیں گے“۔1 : بخارى كتاب الطب باب الدواء بالعسل 2 : النحل : 70