خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 38

خطبات محمود 388 * 1949 غرض قبض اور بسط جہاں دونوں طبعی چیزیں ہیں وہاں ان سے نقصان کا اندیشہ بھی ہوتا ہے کیونکہ بعض دفعہ بیماری بھی قبض کی حالت کے مشابہہ ہوتی ہے اور انسان غلطی سے اُسے قبض سمجھ لیتا ہے اور اس کے علاج سے غافل ہو جاتا ہے۔جیسے میں نے اُداسی کی مثال دی ہے۔اُداسی کبھی طبعی ہوتی ہے۔اگر تم زیادہ دیر تک ہنستے رہو تو لازمی طور پر اُس کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ اُداسی شروع ہو جاتی ہے۔یہ طبعی چیز ہے۔لیکن دوسری طرف ہسٹیریا (HYSTERIA) کا مرض ہے۔ہسٹیریا اور ضعف اعصاب کا مریض بھی اُداس رہتا ہے۔پس ممکن ہے کہ مریض اس اُداسی کو طبعی سمجھ لے اور اگر مریض اُسے طبعی سمجھ لے گا اور اُس کا علاج نہیں کرے گا تو وہ مرض مستقل ہو جائے گا۔پس یہ مشابہت بھی نہایت خطرناک چیز ہے اور انسان کو علاج سے غافل کر دیتی ہے۔اگر انسان ہوشیاری سے کام لے تو وہ نقصان سے بچ جاتا ہے۔مثلاً قبض ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔اگر وہ صرف قبض ہے تو علاج سے اُسے نقصان نہیں پہنچے گا اور اگر بیماری ہے تو علاج کرانے کی وجہ سے وہ اس بیماری سے نجات حاصل کر لے گا اور نقصان سے بچ جائے گا۔غرض قبض کو دور کرنے اور اُس کے علاج کرنے سے اس لیے غفلت نہیں کرنی چاہیے کہ یہ طبعی بھی ہوتی ہے۔ممکن ہے وہ بیماری ہو اور وہ مزمن ہو کر لا علاج مرض کی صورت اختیار کر جائے۔مثلاً وہ شخص سچا مومن تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ يَا رَسُوْلَ اللہ ! میں تو منافق ہوں۔میں جب آپ کی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے اور جب آپ کی مجلس سے علیحدہ ہوتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی تو مومن کی علامت ہے۔تم یونہی اپنے آپ کو منافق سمجھ رہے ہو۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا کہ یہ بیماری نہیں بلکہ طبعی چیز ہے۔لیکن اُس صحابی نے جب اس حالت کو دیکھا تو اُسے گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ کہیں میری یہ حالت محض قبض نہ ہو بلکہ بیماری ہو۔اس لیے وہ سب سے بڑے روحانی طبیب یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اُس نے آپ سے پوچھا کہ میری یہ حالت کہیں بیماری تو نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا یہ ہے قبض کی حالت ہے۔لیکن اگر وہ قبض کی حالت نہ ہوتی بلکہ روحانی بیماری ہوتی اور وہ اُس کے علاج سے غافل رہتا تو ممکن تھا کہ ایک وقت یہی بیماری لاعلاج ہو جاتی۔پس جہاں قبض ایک طبعی چیز ہے