خطبات محمود (جلد 30) — Page 37
* 1949 37 37 خطبات محمود سے پہلے بخار ہوتا تھا۔وہ کو نین نہیں کھاتے تھے لیکن اُن کا بخار اتر جاتا تھا۔حاد امراض 4 کی یہی خصوصیت ہے کہ اگر اُن کا علاج نہ بھی کیا جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتی ہیں۔لیکن اگر وہ امراض لمبی ہو جائیں اور اُن کا علاج نہ کیا جائے تو وہ مستقل ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ تو وہ علاج سے دور ہو جاتی ہے ہیں لیکن اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ علاج سے دور نہیں ہوتیں۔یہی حال روحانی امراض کا ہے۔روحانی امراض میں سے بعض امراض حاد ہوتی ہیں اور بعض مزمن ہوتی ہیں۔ممکن ہے کہ انسان ای جس چیز کو قبض کی حالت سمجھ رہا ہو وہ بیماری ہو۔اگر وہ بیماری حاد ہے تو جلد دور ہو جائے گی۔لیکن اگر وہ لمبی چلی جائے اور اس کا علاج نہ ہو تو وہ شخص تو یہ سمجھتا رہے گا کہ یہ قبض کا نتیجہ ہے مگر نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ مرض مزمن بن جائے گی اور آخر اُسے تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گی۔پس مومن کو ان دونوں حالتوں یعنی قبض اور بسط کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے جب بھی قبض کی حالت محسوس ہو تو ہے اسے چاہیئے کہ اس کا علاج کرے اور اُسے دور کرنے کی کوشش کرے۔اگر وہ قبض کی حالت طبعی نہیں بلکہ بیماری ہے تو اُس کا علاج ہو جائے گا اور اگر وہ طبعی حالت ہے تو علاج سے اُس پر کوئی بڑا ہے اثر نہیں پڑے گا۔بہر حال بیماری چونکہ بعض دفعہ لمبی ہو کر مزمن صورت اختیار کر لیتی ہے اور اُس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے اس لیے حاد امراض کا بھی علاج کیا جاتا ہے ورنہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ ج بغیر علاج کے دور ہی نہیں ہوسکتیں۔مثلاً اگر ہم نزلہ کے موقع پر دوائی استعمال کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ نزلہ یوں اچھا نہیں ہوتا۔نزلہ کے سو میں سے ننانوے کیس آپ ہی آپ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ہم تو اس ڈر کے مارے علاج کرتے ہیں کہ نزلہ مزمن صورت اختیار نہ کر لے۔یا یا کھانسی ہے ہم اس کا اس لیے علاج نہیں کرتے کہ وہ بغیر علاج کے اچھی نہیں ہوگی بلکہ اس لیے علاج کرتے ہیں کہ کھانسی کہیں سل اور دق کی شکل اختیار نہ کر لے۔کیونکہ بعض دفعہ کھانسی جب اُس کا علاج نہ ہو اور وہ لمبی چلی جائے تو سل اور دق کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اُس کا علاج کی مشکل ہو جاتا ہے۔یا بخار چڑھتا ہے اُس کا علاج ہم اس لیے نہیں کرتے کہ وہ یوں اچھا نہیں ہوتا۔بسا اوقات بخار آپ ہی آپ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ہم اُس کا علاج اس لیے کرواتے ہیں کہ وہ کہیں مزمن صورت اختیار نہ کرلے۔اسی طرح ہمیں قبض کا علاج کرنا چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ طبعی نہ ہو بلکہ وہ بیماری ہو اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو ممکن ہے وہ مزمن رنگ اختیار کر لے۔