خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 36

$1949 36 خطبات محمود ہو اس طرح نہ ہنسنا بیماری کی وجہ سے بھی ہوتا ہے یا کبھی کوئی شخص غمگین ہو جاتا ہے یا تھوڑے۔صدمہ سے رو پڑتا ہے یہ ایک طبعی چیز ہے۔لیکن بعض دفعہ کسی بیماری کے نتیجہ میں بھی یہ حالت پیا ہو جاتی ہے۔غرض چونکہ بے ایمانی کی حالت قبض کے مشابہہ ہوتی ہے اس لیے بعض دفعہ انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ یہ بے ایمانی نہیں جو ایک بیماری ہے بلکہ یہ قبض کی حالت ہے جو ایک طبعی چیز ہے اور وہ اسے دُور کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔وہ اسے طبعی تقاضا سمجھ لیتا ہے اور اس کے علاج کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اور چونکہ وہ اسے طبعی تقاضا سمجھ کر کرنے کی کوشش نہیں کرتا اس سے وہ مرض مزمن ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ جسم کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔مثلاً بخار ہے اس کا اگر علاج نہ کیا جائے تو سل اور دق کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔کھانسی ہے اس کا اگر جلد علاج نہ کیا جائے تو سل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔اسی قسم کی کئی اور خرابیاں ہیں۔اگر کچھ مدت کے اندر ٹھیک : جائیں تو ہو جائیں ورنہ وہ مستقل مرض کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اور ان کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔یہی حال روحانی امراض کا ہے اگر وہ جلد دور نہ ہو جائیں تو وہ ایک مستقل صورت اختیار کر لیتی ہیں۔جیسے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کفار کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔2 زنگ کا مفہوم یہی ہے کہ اُن کی روحانی امراض آسانی کے ساتھ دور نہیں ہوسکتیں۔ایک تو طبعی حالت ہوتی ہے جیسے ربڑ ہے اُسے کھینچتے جاؤ تو وہ کھنچتا چلا جاتا ہے اور جب اُسے ڈھیلا چھوڑ دو تو سکڑ کر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے۔لیکن کبھی کبھی لمبے استعمال کے بعد وہ لمبا ہی رہتا ہے اور سکڑ کر اپنی اصلی حالت پر نہیں آتا۔یہ اُس کی خرابی کی علامت ہوتی ہے۔جیسے ربڑ انگریزی گاؤنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ازار بند کی بجائے اس سے کام لیا جاتا ہے مگر ہوتے ہوتے یہ ربڑ اتنا ڈھیلا ہو جاتا ہے کہ وہ کی سکڑتا نہیں اور اس طرح وہ ازار بند کا کام نہیں دیتا اور اُسے بدلنا پڑتا ہے۔اسی طرح جب انسان کی غیر طبعی حالت دیر تک چلی جائے تو وہ طبعی بن جاتی ہے اور طبیعت پھر اپنی اصلی حالت پر واپس نہیں ہے آسکتی اور غیر طبعی حالت ایک مزمن مرض 3 کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔یوں تو ہر مرض کا علاج کی ہے لیکن اگر وہ مرض لمبی ہو جائے تو اُس کا علاج عام امراض کی طرح نہیں ہوتا۔مثلاً بخار ہے۔اگر ی وہ چند دن کا ہو تو بسا اوقات بغیر علاج کے ہی دور ہو جاتا ہے۔ضروری نہیں کہ کو نین کھائی جائے۔آخر ہزاروں ہزار بلکہ لاکھوں لاکھ اور کروڑوں کروڑ آدمی ایسے تھے جنہیں کونین کے دریافت ہونے