خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 435

* 1949 435 خطبات محمود کوشش کی مگر کچھ پیچھے دھکیل دیئے گئے اور کچھ وہیں ڈھیر ہو گئے۔اب خبر آئی ہے کہ رسول کریم می صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شہید ہو گئے ہیں۔حضرت مالک ساری کھجور میں کھا چکے تھے صرف ایک کھجور باقی تھی جو ہاتھ میں تھی۔وہ حیرت سے کہنے لگے عمرا! اگر یہ ٹھیک ہے تب بھی یہ وقت رونے کا کی نہیں۔ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اب ہمارا اس دنیا میں رہنا بیکار ہے۔جہاں ہمارا محبوب آقا گیا وہیں ہم کو جانا چاہیے۔پھر وہ کھجور جو باقی تھی انگلیوں میں پکڑ کر کہنے لگے میرے اور جنت کے درمیان تیرے سوا اور ہے ہی کیا ؟ یہ کہہ کر آپ نے کھجور پھینک دی اور تلوار لے کر ا کیلے ہی تین ہزار کے لشکر پر حملہ آور ہوئے۔یہ ظاہر ہے کہ تین ہزار کے مقابلہ میں ایک کر ہی کیا سکتا ہے؟ آخر آپ شہید ہو گئے۔کچھ دیر بعد مسلمان لشکر اکٹھا ہو گیا اور دشمن کو دوبارہ شکست ہوئی اور وہ واپس لوٹ گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا زخمیوں اور مقتولوں کا پتا لگاؤ۔جب زخمی اور مقتول جمع کیے گئے تو مالک کا کہیں پتا نہ لگا۔حضرت عمرؓ نے سارا واقعہ بتایا کہ وہ اِس اِس طرح دشمن کے لشکر میں گھس گئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تلاش کرو۔تلاش پر ایک لاش کے ٹکڑے مختلف جگہ سے ملے۔آپ نے حضرت مالک کی بہن کو بھجوایا کہ وہ اپنے بھائی کو پہچاننے کی کوشش کریں۔انہوں نے ایک انگلی سے انہیں پہچانا۔آپ کے جسم کے 70 ٹکڑے ہو گئے تھے۔6 انگلی انگلی اُڑگئی تھی ، بوٹی بوٹی کا قیمہ ہو گیا تھا، ہڈی ہڈی کٹ گئی تھی۔ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ یعنی ہمارے رسولوں کے ماننے والوں میں سے کچھ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے نذریں مانیں اور انہوں نے نذروں کو پورا کر دیا۔جیسے حضرت مالک نے فرمایا تھا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو میں دکھاؤں گا کہ عاشق کیسے قربانی کرتا ہے۔ننانوے فیصدی نذریں ماننے والے جھوٹے ہوتے ہیں مگر مالک ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نذر مانی اور اسے پورا کر دیا۔پھر فرماتا ہے کہ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ یہ نہ سمجھ لینا کہ یہ لوگ اتنے ہی تھے جو مر گئے۔نہیں! ایک جماعت ابھی باقی ہے جو اس انتظار میں ہے کہ موقع ملے تو وہ بھی اپنے عہد کو پورا کرے۔ہماری جماعت میں بھی خدا تعالیٰ نے ایسے لوگ پیدا کیے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ حافظ جمال احمد صاحب بھی انہی میں سے تھے جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَہ۔وہ یہاں سے عہد کر کے گئے تھے کہ وہ وہیں کے ہور ہیں گے۔