خطبات محمود (جلد 30) — Page 424
$1949 424 خطبات محمود کہ لڑائی کے بعد جب لوگ ڈاکٹر کے پاس گئے تو ہسپتال کا ایک ڈاکٹر ربوہ سے غائب تھا۔دوسرے ڈاکٹر نے کہا کہ فیس لاؤ تب مریض کو دیکھوں گا۔جلسہ کے دنوں میں جبکہ کام کا اتنا زور پڑ رہا تھا کسی ڈاکٹر کا ربوہ سے غائب ہونا یا دوسرے کا فیس کا مطالبہ کرنا ایک ایسے امر میں جس پر جلسہ سالانہ کی بنیاد ہے بعض حالات میں اتنا خطرناک ہوسکتا ہے کہ ان کو جماعت سے نکال دیا جائے۔اور بعض حالات کی میں اگر وہ اپنی معذوریاں ثابت کر دیں تو قابل ملامت ضرور ہے۔یا اگر ثابت ہو جائے کہ وہ ڈاکٹر جو ربوہ سے غائب تھا کسی سرکاری کام کی وجہ سے غائب تھا تو شاید وہ بری بھی ہو جائے۔مگر بہر حال ہم اپنی طرف سے طیب اور خبیث میں فرق نہیں کر سکتے۔طیب اور خبیث میں فرق کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔مگر جہاں تک ہمیں علم ہے اس کی بناء پر چاہیے کہ ہم ربوہ کی بنیاد ایثار اور قربانی پر رکھیں۔اور جب ہم ایسا کر دیں گے تو خدا تعالیٰ بھی اس کی بنیاد ایثار اور قربانی پر ہی رکھے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تو مومنوں سے سو دا ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مومنوں سے اُن کی جان و مال کا سودا کر لیا ہے۔وہ اس کے بدلہ میں جنت بطور قیمت دے گا۔1 دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ مزدور ہمیشہ مزدوری پہلے کرتا ہے اور قیمت اسے بعد میں ملتی ہے۔اس آیت کے الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ پہلے تم جان و مال دو گے پھر بعد میں جنت ملے گی۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ بازار سے سودا خرید نے جاتے ہیں تو پہلے سودا لیتے ہیں پھر قیمت ادا کرتے ہیں۔مثلاً ایک شخص سیر بھر مولیاں خریدتا ہے تو وہ مولیاں لے لے گا بعد میں قیمت دے گا۔یا کپڑا خریدتا ہے تو وہ پہلے کپڑ ا خرید لے گا بعد میں دکاندار پل بنائے گا اور وہ قیمت ادا کرے گا۔غرض مال کی ادائیگی پہلے ہوا کرتی ہے اور قیمت کی ادائیگی بعد میں ہوا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی مومنوں سے اُن کے مال اور جان خریدے ہیں یعنی وہ ای جان و مال پہلے لے گا پھر قیمت ادا کرے گا۔گویا تم پہلے جان و مال دو گے تو بعد میں تمہیں جنت کا لالی مطالبہ کرنا ہو گا۔پہلے تم اپنے گھر کو صاف کرو گے پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار بنو گے۔یہی طریق اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے چلا آرہا ہے کہ جب کوئی انسان اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے حصہ کو نہایت شاندار طور پر ادا کرتا ہے اور مومن کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ یقین رکھتا ہے کہ خانہ پری کرنا میرا کام ہے اور کام کو انجام تک پہنچانا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔میں نے جو ادا کرنا تھا سوکر دیا باقی جو کمی رہ گئی خدا تعالیٰ اسے خود پورا کرے گا۔