خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 423

$1949 423 خطبات محمود ان کے اندر پوری طرح پایا جائے۔ان لوگوں کا یہ نمونہ اس بات کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک علامت مقرر کیا گیا ہے تا آئندہ اس بارہ میں کوئی فیصلہ کیا جائے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ ہم صرف اخلاق اور قربانی سے ہی دنیا کو فتح کر سکتے ہیں اعداد سے ہم ترقی نہیں کر سکتے۔اور اگر ہماری فتح صرف اخلاق اور قربانی سے ہی ہوسکتی تو کسی دنیوی سہارے کی طرف توجہ کرنا درست نہیں۔کسی دنیوی سہارے کی طرف نگاہ رکھنا گویا اس بات کا اپنے منہ سے اقرار کرنا ہے کہ ہمیں اپنی تعداد پر بھروسہ ہے۔اور یہ ایسی چیز ہے کہ پاگل سے پاگل آدمی کے لیے بھی اتنا نایا سمجھنا مشکل نہیں کہ ہم اعداد سے فتح حاصل نہیں کر سکتے۔اگر ہم اعداد پر بھروسہ رکھیں تو لازمی طور پر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم فتح کی امید نہیں رکھتے۔اور اگر ہم ایسا کہتے ہیں تو دنیا کو اور اپنے نفس کو ہی دھوکا دیتے ہیں۔لیکن اگر ہماری فتح تعداد پر منحصر نہیں ، اگر ہم اخلاق سے باہر رہ کر فتح حاصل نہیں کر سکتے اور ہماری فتح قربانی اور روحانیت سے ہی ہو سکتی ہے تو ہمیں انہی اور اتنے آدمیوں کی ہی ای ضرورت ہوگی جو اخلاق کا اعلیٰ نمونہ پیش کریں، جو اپنے اندر اعلیٰ درجہ کی قربانی اور ایثار کا جذبہ رکھتے تھے ہوں۔لیکن بعض معاملوں میں ہمیں نہایت گندہ نمونہ ملا ہے۔مثلاً تعمیر کا محکمہ ہے جلسہ سالانہ کا انتظام کبھی کا ختم ہو جاتا اگر کارکنوں میں تعاون پایا جاتا مگر صرف ذاتی بڑائیوں کی خاطر ایک دوسرے سے جھگڑنے میں وقت ضائع کیا جاتا رہا۔اگر کارکنوں میں آپس میں تعاون پایا جاتا تو آج سے دس دن کی پہلے یہ کام ختم ہو جانا تھا۔لیکن آج بھی یہ کام ختم نہیں ہوا اور بعض حالات میں ناممکن نظر آ رہا ہے کہ مکمل ہو۔اگر اینٹوں کا سوال آتا ہے تو اینٹوں والے اڑ جاتے ہیں اور اگر روپے کا سوال آتا ہے تو روپے والے اڑ جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہی وقت اپنی حکومت جتانے کا ہے۔بہر حال اب موقع نہیں کہ میں تحقیقات کر کے کسی پر گرفت کروں۔جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ہمیں ان کو برداشت کرنا ہے پڑے گا لیکن جلسہ کے بعد ہر ایک کا حساب چکایا جائے گا۔مثلاً آج ہی مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ مزدور جو غیر احمدی تھے آپس میں لڑ پڑے۔ایک مزدور زخمی ہو گیا اور کام بند ہو گیا۔جلسہ سالانہ کے لیے جتنی بیرکوں کی ہمیں ضرورت تھی ان میں سے باون فیصدی مکمل ہو چکی ہیں اڑتالیس فیصدی ابھی باقی ہیں۔باون فیصدی بار کیس بننے میں ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگا ہے اور اڑتالیس فیصدی بارکوں کی تیاری کے لیے صرف دو دن باقی ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے لیے ایک ایک منٹ قیمتی ہے۔مگر مجھے اطلاع ملی ہے