خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 308

* 1949 308 خطبات محمود وہاں کبھی سینما نہیں دیکھا تھا، جن کی لڑکیاں کبھی بے پرد نہیں پھری تھیں وہ اب سینما د یکھتے ہیں اور ان کی عورتیں بے پرد سائیکلوں پر دوڑتی پھرتی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسی عورتیں ہزار میں سے ایک کی نسبت رکھتی ہیں لیکن بہر حال شیطان کو ہزار میں سے ایک عورت تو مل گئی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہاں وہ ایسے ماحول میں تھیں کہ انہیں اس رنگ میں شیطان کا مقابلہ کرنے کا موقع نہیں ملا اور چونکہ ان کو شیطان کا مقابلہ کرنے کی عادت نہیں تھی اس لیے انہوں نے یہاں آتے ہی ہتھیار پھینک دیئے اور اس رو میں بہہ گئیں جس رو میں دوسرے لوگ بہے جارہے ہیں۔بہر حال یہ دو چیزیں یہاں نہیں جن کی وجہ سے کسی جماعت کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔اب یا تولا ہور شہر میں احمدیت اتنی مضبوط ہو جائے کہ نصف لوگ ایک طرف ہو جائیں اور نصف دوسری طرف۔اگر ایک طرف کسی مسئلہ کے خلاف بولنے والے لوگ موجود ہوں تو دوسری طرف اس کی تائید کرنے والے لوگ موجود ہوں، اگر ایک طرف سینما دیکھنے کی تائید کرنے والے ہوں تو دوسری طرف سینما سے روکنے والے ہوں، ایک طرف ناچنے گانے کی تائید کرنے والے ہوں تو دوسری طرف ناچنے گانے سے روکنے والے ہوں، ایک طرف نماز پڑھنے سے روکنے والے ہوں تو دوسری طرف نماز پڑھنے کی تائید کرنے والے ہوں ، ایک طرف روزہ کی مخالفت کرنے والے ہوں تو دوسری طرف روزہ کے فوائد بتانے والے ہوں تب بیشک متوازی آواز میں اُٹھیں گی اور ماحول کے بُرے اثرات سے انسان محفوظ رہ سکے گا۔اور یا پھر دوسری صورت یہ کی ہو سکتی ہے کہ مخالفت شروع ہو جائے ، لوگ گالیاں دینے لگیں اور مار پیٹ پر اُتر آئیں۔اگر لوگ گالیاں دینے لگیں تب بھی ان کے ایمان مضبوط ہو جائیں گے۔کیونکہ جب کوئی نو جوان یہ دیکھے گا کہ میرے ماں باپ کو محض اس لیے گالیاں دی جاتی ہیں کہ وہ احمدی ہیں اُس کی غیرت جوش میں آئے گی اور وہ کہے گا کہ اب میں بھی لوگوں کو احمدی بن کر دکھاؤں گا اور ان کا مقابلہ کروں گا۔مگر یہ صورت ہمارے اختیار میں نہیں۔اب صرف یہی صورت ہو سکتی ہے کہ دینی ترقی کے لیے ایک نیا ما حول تیار کیا تھی جائے۔جب کسی محلہ میں ہم اپنا ماحول پیدا نہیں کر سکتے تو ہمارا فرض ہوتا ہے کہ ہم محلہ سے باہر نکل کر اپنا ماحول بنانے کی کوشش کریں۔اور محلہ سے باہر دوسرا ماحول صرف اسکول کے ذریعہ ہی پیدا کیا می جاسکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسکول ایک محدود چیز ہے مگر اسکول میں تمام قسم کے ہم عمر بچے اکٹھے ہوتے ہیں۔امیر اور غریب ، ادنی اور اعلیٰ سب ایک جگہ موجود ہوتے ہیں اور یہ ایک قدرتی بات ہے