خطبات محمود (جلد 30) — Page 241
* 1949 خطبات محمود 241 لیکن ہوا اور بارش نے اُن کے باہر نکلنے کا رستہ بھی بند کر دیا۔ان تینوں کے اندر اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس سل کو دروازہ سے ہٹا سکتے۔پس تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ کوئی ایسی تدبیر اختیار کی جائے جس سے یہ سل دروازہ سے ہٹ جائے اور آخر انہوں نے یہ تجویز کی کہ آؤ! ہم اپنے کسی خاص فعل کو پیش کر کے خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگیں کہ اے اللہ ! ہمارے فلاں فعل کی وجہ سے جو خالص تیرے لیے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرا اور میرے اہل وعیال کا گزارہ بکریوں کے دودھ پر ہے مگر ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ میں جلدی واپس گھر نہ پہنچ سکا۔بہت رات گئے میں گھر پہنچا۔میرے بڑھے والدین میرا انتظار کرتے کرتے تھکان کی وجہ سے مزید بیدار رہنے کی برداشت نہ کر سکے اور سو گئے۔جب میں گھر پہنچا تو میرے بچے بھوک کی وجہ سے تڑپ رہے تھے اور بیوی بھی بیتاب تھی۔میری بیوی نے کہا تمہارے والدین تو تھکان کی وجہ سے سو گئے ہیں لیکن ہم لوگ جاگ رہے ہیں اور کھانے کی انتظار میں ہیں تو ہمیں دودھ پلا دو بچے بھوک کی زیادہ برداشت نہیں کر سکتے۔میں نے اسے جواب دیا ماں باپ کا حق بیوی بچوں پر مقدم ہے۔میں پہلے انہیں دودھ پلاؤں گا اور پھر بیوی بچوں کی طرف توجہ کروں گا۔چنانچہ میں نے دودھ کا پیالہ اُٹھایا اور اُن کی پائنتی کھڑا ہو گیا۔کیونکہ میں انہیں جگانا اور ان کی نیند میں دخل انداز ہونا نہیں چاہتا تھا میں نے خیال کیا جب یہ نیند سے خود بخود بیدار ہوں گے تو ان کی خدمت میں دودھ پیش کروں گا۔لیکن وہ تھکان کی وجہ سے ایسے سوئے کہ ساری رات گزرگئی اور وہ نہ جاگے۔میرے بچے بھی آخر بھوک کی برداشت نہ کر سکے اور نیند کے غلبہ کی وجہ سے سو گئے۔میں ساری رات والدین کی پائنتی دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے کھڑا رہا۔صبح جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو میں نے انہیں دودھ پلایا اور ان کے بعد بیوی بچوں کو دودھ دیا۔اے میرے رب ! میری اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں تھی۔میں نے ان سے یہ حسنِ سلوک صرف اُس فرض کے ادا کرنے کے لیے کیا جو تو نے مجھ پر عائد کیا تھا۔اے میرے خدا! اگر تیرے نزدیک میرا یہ فعل مقبول ہے تو تو ہم پر رحم کر کے غار کے دروازہ سے پتھر ہٹا دے۔احادیث میں آتا ہے کہ ان تینوں میں سے ہر ایک جب اپنی کسی خاص قربانی کو پیش کر کے خدا تعالیٰ سے دعا کرتا تو پتھر کا 1/3 حصہ دروازہ سے ہٹ جاتا۔جب تیسرے شخص نے دعا کی تو آندھی زور سے چلی اور پتھر کے باقی حصہ کو بھی غار کے دروازہ ان خص