خطبات محمود (جلد 30) — Page 173
* 1949 173 خطبات محمود میں صحابہ نے ایسا کیا لیکن واقعات اس کی تردید کرتے ہیں۔دنیا کی بڑائی اور دنیا میں ترقی کی خواہش کوئی نہ کوئی علامتیں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔مثلاً جب دنیوی بڑائی کسی کو مل جاتی ہے تو اُس سے وہ ذاتی طور پر فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے، ناجائز دباؤ لوگوں پر ڈالتا ہے، ناجائز رعب ڈالتا ہے، ناجائہ حکومتیں کرتا ہے، ناجائز طور پر اموال پر قبضہ کر لیتا ہے، ناجائز طور پر جائدادیں بناتا ہے یا ان جائدادوں کو اپنے دوستوں میں تقسیم کرتا ہے۔یہ علامتیں ہوتی ہیں جن سے پہچانا جا سکتا ہے کہ اس کے دل میں دنیا کی لالچ یا دنیا کی بڑائی کی خواہش موجود ہے۔لیکن اگر کوئی شخص دنیوی فتوحات کے بعد ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ، نہ قوم کے اموال اپنی ذات پر خرچ کرتا ہے نہ لوگوں پر ناجائز حکومت کرتا ہے، نہ اُن پر دبدبہ اور رُعب جتاتا ہے، نہ اپنی شان دکھانے کی کوئی ہے کوشش کرتا ہے تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ دنیوی اغراض کے ماتحت اپنی بڑائی چاہتا تھا۔صحابہ کو جو فتوحات حاصل ہوئیں اُن سے انہوں نے ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا۔حضرت کی ابوبکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی وغیرہ نے مفتوحہ علاقوں میں سے کچھ نہیں لیا، مفتوحہ جائدادوں میں سے کچھ نہیں لیا، مفتوحہ اموال میں سے کچھ نہیں لیا سوائے اِس کے کہ انہوں نے ی اپنی قلیل ترین ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تھوڑا سا مال لے لیا مگر وہ بھی اتنا قلیل کہ اُس زمانہ ای کے عام لوگوں سے بھی کم تھا۔اس بات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور ہمیں ماننا ہی پڑتا ہے کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کے زمانہ میں صحابہ کا کسی ملک پر حملہ کرنا ان کی لوگوں کی ذاتی خواہش کے ماتحت نہیں تھا۔دوسری بات جو عام طور پر پیش کی جاتی ہے اور ایک حد تک صحیح بھی ہے وہ یہ ہے کہ دشمن نے حملے میں پہل کی اور وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے لڑنے پر مجبور ہو گئے۔یہ بات ایک حد تک درست ہے بلکہ بڑی حد تک درست ہے۔قیصر نے بھی حملہ میں ابتدا کی اور کسری نے بھی حملہ میں ابتدا کی اور مسلمان اُن کے مقابلہ کے لیے مجبور ہو گئے۔مگر یہ دلیل اس بات کے ثابت کرنے کی کے لیے تو کافی ہے کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ظالم نہیں تھے، یہ لوگ دشمن کو تباہ کی کرنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔دشمن نے حملہ کیا اور وہ اس کے دفاع کے لیے مجبور ہو گئے۔مگر ہے یہ دلیل اس سوال کے جواب کے لیے کافی نہیں کہ انہوں نے بعد میں بھی لڑائی کیوں جاری رکھی؟