خطبات محمود (جلد 30) — Page 172
* 1949 172 (18) خطبات محمود الہی جماعتوں کے لیے مصائب اور ابتلاؤں کا آنا نہایت ضروری ہوتا ہے (فرموده 24 جون 1949ء بمقام پارک ہاؤس کوئٹہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ”جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علوم اور اس کی دی ہوئی خبروں سے مجھے معلوم ہوتا ہے جماعت کے لیے اب ایک ہی وقت میں دو قسم کے زمانے کی آرہے ہیں۔اور الہی جماعتوں کے لیے ہمیشہ ہی یہ دونوں زمانے متوازی آیا کرتے ہیں۔یعنی ایک ہی وقت میں ترقی اور ایک ہی وقت میں ابتلاؤں کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ وہ آخری زمانہ نہیں آجاتا جس میں تمام تکالیف ختم ہو جاتی ہیں اور صرف ترقیات ہی ترقیات باقی رہ جاتی ہیں۔لیکن الہی سنت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بیرونی مصائب کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے تو اُس وقت اندرونی مصائب شروع ہو جاتے ہیں۔صحابہ اس نکتہ کو خوب سمجھتے تھے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے عرب پر مسلمانوں کو فتح دے دی تو اس کی کے بعد وہ خاموش ہو کر نہیں بیٹھ گئے بلکہ صحابہ نے اپنے لیے ایک اور مصیبت سہیڑ لی۔یعنی ایک ہی واری وقت میں انہوں نے قیصر اور کسرای دو زبر دست بادشاہوں سے جو اُس زمانہ میں سب سے زیادہ طاقت رکھتے تھے لڑائی شروع کر دی۔لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید دنیا کی لالچ یا دنیا کی بڑائی کی خواہش