خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 164

* 1949 164 خطبات محمود ایسا نہیں کرتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ کسی کام میں اگر برکت ہے تو پھر اس کی مخصوص شکل کو اختیار کرنا چاہیے۔اور انہیں اس بات کا اس حد تک تعہد تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت عمرؓ کہیں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو قرآن کریم پڑھتے سنا۔انہوں نے ایک لفظ اُس طرح نہ پڑھا جس طرح حضرت عمرؓ جانتے تھے۔حضرت عمر نے اُن کو ڈانٹا اور کہا کہ آپ غلط پڑھ رہے ہیں۔دراصل یوں پڑھنا چاہیے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا میں ٹھیک پڑھ رہا ہوں۔میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اِسی طرح ہی سنا ہے۔حضرت عمرؓ کہنے لگے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں سکھایا ہے اور آپ کہتے ہیں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سکھایا ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔آخر جھگڑا اوی بڑھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کمزور تھے اور حضرت عمرؓ مضبوط تھے۔حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے گلے میں پڑکا ڈال لیا اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہایا رسول اللہ !یہ قرآن کریم کو بگاڑ کر پڑھتے ہیں۔آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے فرمایا تم کس طرح پڑھتے ہو؟ انہوں نے وہ آیت دوبارہ پڑھ کر سنائی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔حضرت عمرؓ کہنے لگے یا رسول اللہ ! یہ کس طرح ٹھیک ہوسکتا ہے؟ مجھے نے اس طرح سکھایا تھا کیا اس آیت کو اس طرح پڑھنا بھی ٹھیک ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ! ٹھیک ہے۔پھر آپ نے فرمایا قرآن کریم کئی قراء توں پر نازل ہوا ہے۔2 یعنی قرآن کریم کے الفاظ کو مختلف قبیلوں کے لہجہ کے مطابق مختلف طریق پر ادا کرنا جائز ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود چونکہ اور قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لہجہ کے مطابق قرآن کریم سکھایا لیکن دونوں کا مطلب ایک ہی تھا۔ہمارے ملک میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے ہے۔گجرات کے علاقہ کی طرف چلے جاؤ وہاں کہیں گے کڈے دینا اے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے علاقہ میں اسی مفہوم کو کتھے جانا ہے سے ادا کرتے ہیں۔الفاظ مختلف ہیں لیکن دونوں کا جی مطلب ایک ہے۔یہی فرق عربوں میں بھی پایا جاتا تھا۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہؓ کو قرآن کریم سکھایا کرتے تو آپ اُن کی زبان کا بھی لحاظ رکھ لیا کرتے تھے۔یہ زبان کا اختلاف دنیا کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔دلّی میں چلے جاؤ تو وہ "خالص" کو ہمیشہ "خالص"