خطبات محمود (جلد 30) — Page 163
$1949 163 خطبات محمود اس کا مکمل نقشہ ذہن میں بٹھا لیا جائے ، اُسے اس کی مخصوص شکل میں ڈھال لیا جائے۔ورنہ ہم اس کام کو مکمل نہیں کر سکیں گے اور اس طرح اس کے فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے جو حیرت انگیز ترقی کی اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ ای ہر کام کو شروع کرنے سے پہلے اُس کا مکمل نقشہ ذہن میں بٹھا لیا کرتے تھے اور ہر کام کو مکمل کرنے کے لیے اُن کے اندر ایک جوش پایا جاتا تھا۔یوں تو دنیا کی ساری قومیں ہی قربانیاں کرتی ہیں۔یہودیوں نے بھی قربانیاں کیں ، عیسائیوں نے بھی قربانیاں کیں لیکن ان میں اور صحابہ کی قربانیوں میں ایک فرق نظر آتا ہے۔صحابہ میں یہ جذبہ پایا جاتا تھا کہ وہ ہر چیز کی مکمل تصویر کھینچ لیں۔صحابہ کے اس جذبہ کا اس بات سے پتا لگتا ہے کہ ایک دفعہ صحابہ نے دیکھا کہ حضرت ابو ہریرہ چھت پر بیٹھے ہوئے وضو کر رہے ہیں اور بجائے اس کے کہ کہنیوں تک ہاتھ دھوئیں کندھوں تک ہاتھ دھورہے ہیں صحابہ نے دریافت کیا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت ابو ہریر گا نے فرمایا میں چھت پر بیٹھ کر اس لیے وضو کر رہا تھا تا تم نہ دیکھو اور مجھے ایسا کرتے دیکھ کر ہنس نہ پڑو۔صحابہ نے دریافت کیا کہ آخر آپ ایسا کیوں کر رہے تھے؟ حضرت ابو ہریرہ نے کہا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ جتنے اعضاء پر وضو کا پانی پھرتا ہے وہ قیامت کے دن نورانی ہو جائیں گے۔اور میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سُنا تھا کہ کہنیوں کے اوپر کا حصہ اچھی طرح دھویا کرو۔میرا خیال تھا کہ میں آپ سے اس کے متعلق سوال کروں کہ کہنیوں کے اوپر کے حصہ کو صاف کرنے سے کیا مراد ہے؟ لیکن میں آپ کی زندگی میں آپ سے اس کے متعلق پوچھ نہ سکا۔اب مجھے خیال گزرا کہ شاید اس سے یہ مراد ہو کہ وضو میں ہاتھ دھوتے وقت کندھوں تک ہاتھ دھو ہے کرو۔بہر حال میں نے قیاس کیا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے یہی مراد تھی تو ہاتھوں کا یہ حصہ نور سے محروم رہ جائے گا اس لیے میں نے اس دفعہ وضو میں کہنیوں کے اوپر کے حصہ کو بھی کی شامل کر لیا۔1 اب دیکھو صحابہ میں کس طرح تکمیل کا جذبہ پایا جاتا تھا۔انہیں کس طرح ہر کام کو مکمل کرنے کے باوجود بعض دفعہ محبہ ہو جاتا تھا کہ ہم نے کام کو مکمل طور پر نہیں کیا۔ہمارے ہاں تو ہر کام میں لا پرواہی سی پائی جاتی ہے۔یوں سہی یا ووں سہی۔دونوں برابر ہیں ٹخنہ پر ایک نشان رہ گیا ہے تو کوئی حرج نہیں سجدہ یا رکوع میں فرق آگیا تو کیا ہوا۔لیکن صحابہ