خطبات محمود (جلد 30) — Page 160
* 1949 160 خطبات محمود باہر جانے لگا تو اُس نے ٹھوکر کھائی اور وہ تو وہیں گر گیا اور گٹھڑی آگے جا پڑی۔میرے اس محاورہ کے استعمال کرنے سے یہ مطلب تھا کہ جنہیں جلدی آنا چاہیے تھا وہ تو آئے نہیں اور آپ آگئے ہیں۔آپ انجمن کے نمائندہ ہیں خود حصہ دار نہیں ہیں لیکن آپ اُن دونوں سے پہلے آگئے۔مولوی صاحب نے کہا اچھا! اس کا یہ مفہوم تھا۔میں نے تو اس کا یہ مطلب سمجھا تھا کہ آپ نے مجھے چور بھی قرار دیا ہے اور میرے رنگ کے کالے ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔پنڈ“ کے معنے میں نہیں سمجھ سکا تھا۔اسی طرح اگر تم لوگ بھی بغیر سندھی زبان سیکھنے کے اس علاقہ کے رہنے والوں کو تبلیغ کرو گے تو ممکن ہے کہ وہ کچھ اور مفہوم لے لیں اور تمہاری تبلیغ اکارت چلی جائے۔پس ان لوگوں کے کی ساتھ ملوجلو، ان کے ساتھ بیٹھو اور ان کی زبان سیکھو۔دوسرے ممالک کے لوگ ہمارے ملک میں آتے ہیں اور وہ اردو سیکھ لیتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ تم یہ زبان نہ سیکھ لو۔عرب آتا ہے ، پٹھان کی آتا ہے وہ فوراً اُردو سیکھ جاتا ہے۔بے شک کوئی کوئی نقص رہ بھی جاتا ہے۔مثلاً کشمیری لوگ مذگر می کو مؤنث اور مؤنث کو مذگر بنا دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں تیری رن آیا ، چور گئی ، میں آئی۔اور اوی پٹھان مفرد کو جمع اور جمع کو مفرد بنا دیتے ہیں۔مثلاً اگر وہ پانی ہے" کہنا چاہیں تو پانی ہیں کہتے ہیں۔اس قسم کی تھوڑی بہت غلطیاں رہ جاتی ہیں لیکن ہم ان کا مفہوم سمجھ لیتے ہیں۔پس جہاں تمہارا یہ فرض ہے کہ تم نماز ، روزہ اور دوسرے اسلامی احکام کی پابندی کرو وہاں ہر ایک کو اس علاقہ کی زبان سیکھنی چاہیے۔تم قاعدے اور کتابیں خرید لو اور سندھی زبان سیکھنے کی کوشش کرو تا کہ تم اس علاقہ کے رہنے والوں کو آسانی سے تبلیغ کر سکو اور تا وہ دوری اور بعد دور ہو جائے جو پنجابی اور سندھی میں پایا جاتا ہے۔پھر تم جہاں سندھی زبان سیکھنے کی کوشش کرو وہاں یہ بھی کوشش کرو کہ سندھی لوگ اُردو زبان سیکھ جائیں تا کہ وہ سمجھیں کہ تم اُن کے بھائی ہو اور ہم وطن بن کہ یہاں رہنا چاہتے ہو اور اُن کا یہ احساس کہ تم اُن سے نفرت کرتے ہو دُور ہو۔اس کے بغیر تبلیغ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔الفضل 2 دسمبر 1959 ء ) 1 : ابن ماجه ابواب الجهاد باب فضل الشهادة في سبيل الله 2 : والا: کنگن، کڑا۔( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 2 صفحہ 87 اردو لغت بورڈ کراچی 2007ء)