خطبات محمود (جلد 30) — Page 148
* 1949 148 خطبات محمود کو سچا مانتا ہے یہ انتہائی بے حیائی ہے کہ وہ ایک طرف یہ کہے کہ میں قرآن کریم کو سچا مانتا ہوں اور دوسری طرف وہ عملی طور پر اس کا انکار کر دے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو عقلمند سمجھتا ہے اور خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوذُ باللهِ بیوقوف سمجھتا ہے۔کہتے ہیں کوئی پٹھان تھا اُس نے فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ پڑھا تھا کہ نماز میں اگر کوئی شخص نماز کی حرکات کے علاوہ کوئی اور حرکت کرے تو اُس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے وقت حضرت حسن اور حسین کو جو اس وقت بچے تھے ہے گود میں اُٹھا لیتے تھے اور نماز نہیں توڑتے تھے۔13- آپ جانتے تھے کہ نماز کا بچانا اصل فرض ہے۔اگر بچہ پاس کھڑا چھینیں مارتا رہے گا تو نماز خراب ہوگی۔اسی طرح آپ نماز میں ضرورت پر دروازہ ہے بھی کھول دیتے تھے کیونکہ اگر دروازہ کھولا نہ جائے تو کھٹکھٹانے والا دروازہ کھٹکھٹاتا چلا جائے گا اور اس طرح نماز خراب ہوگی۔پٹھان فقہ کو احادیث پر مقدم سمجھتے ہیں اور یہ فقہ کا مسئلہ ہے کہ نماز ہے میں اگر کوئی شخص نماز کے علاوہ کوئی اور حرکت کرے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔اس پٹھان نے ی جب یہ حدیث پڑھی تو کہنے لگا خو! محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔سننے والے نے کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کس طرح ٹوٹی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز بتائی ہے۔اس پٹھان نے جواب دیا کہ کنز میں یوں لکھا ہے۔پس وہ شخص جو ایسا جواب دیتا ہے اس کے پاگل اور منافق ہونے میں کیا شبہ ہے۔کیا اُس شخص سے بھی زیادہ کوئی شخص احمق ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ مجھ میں عقل زیادہ ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ میں نَعُوذُ بِاللہ کم ہے؟ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر بات قرآن کریم سے نہیں بلکہ اس سے سمجھنی چاہیے“۔الفضل 20 جولائی 1960 ء ) 1 : النساء : 146 2 : بخاری کتاب المغازی باب حديث الافك 3 : البقرة: 274 4 : اِعْدِلُوا ( المائدة : 9) 5 : وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزَّورِ (الحج: (31) وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ( الاحزاب : 71) :