خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 124

* 1949 124 خطبات محمود اور بُرا بھلا کہنا چھوڑ دیا۔جب اس کے بیٹے نے دیکھا کہ اب لوگوں نے اسے گالیاں دینا چھوڑ دیا ہے تو اس نے بھی کفن چوری ترک کر دی۔غرض اس طرح بدنامیوں اور نیک نامیوں کا سلسلہ چلتا ہے۔اگر کسی میں کوئی عیب ظاہر طور پر پایا جاتا ہے تو وہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے اور اگر وہ عیب باطنی ہوتا ہے تو لوگ ایسی باتیں سنتے ہی بے نام گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح خوبیاں ہیں۔اگر کسی میں کوئی خوبی ظاہری طور پر پائی جاتی ہے تو لوگ اس کی تعریفیں کرتے ہیں لیکن اگر وہ خوبی باطنی ہوتی ہے تو لوگ بے نام تعریفیں کرتے ہیں لیکن اس قاعدہ سے لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے۔قرآن کریم میں جب یہ کہا گیا کہ مُردہ زندہ کے برابر نہیں ہو سکتا تو اس کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ مُردہ وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتا۔یہ ایک دلیل ہے جو خدا تعالیٰ نے کفار کے مقابلہ میں ان کے جھوٹا ہونے کے لیے دی۔بلکہ یہ ایک طنز ہے جو مسلمان کے لیے عبرت کا ایک کوڑا ہے جو مُردہ زندہ کے برابر نہیں ہو سکتا۔یعنی ایک غیر مسلم کسی خوبی میں اور کسی میدان میں بھی ایک مسلمان کے برابر نہیں ہو سکتا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مُردہ زندہ کے برابر نہیں ہوسکتا اگر اس کے یہی معنی ہیں کہ ایک غیر مسلم ایک مسلمان کے برابر خوبیاں نہیں رکھ سکتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر آپ کے جاننے والے کے برابر نہیں ہوسکتا تو بظاہر یہ درست نظر نہیں آتا کیونکہ آج ہر خوبی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر مسلمان سے زیادہ اچھا نظر آتا ہے۔صداقت اس میں زیادہ پائی جاتی ہے، محنت اس میں زیادہ پائی جاتی ہے، احساس قومی اس میں زیادہ پایا جاتا ہے، ایثار اور قربانی میں وہ ایک مسلم سے زیادہ اچھا ہے، رحم اس میں زیادہ پایا جاتا ہے، انصاف اس میں زیادہ پایا جاتا ہے، پاکیزگی اس میں زیادہ ہے د پائی جاتی ہے، غیرت اس میں زیادہ پائی جاتی ہے۔غرض وہ تمام اخلاق فاضلہ جن کو قرآن کریم بیان کرتا ہے اور اس رنگ میں بیان کرتا ہے کہ گویا وہ ایک مسلمان کی جائداد ہیں اور جن کی نسبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِن اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا۔2 اے مخاطب ! اچھی باتوں کے متعلق تم کیا پوچھتے ہو یہ تو مومن کا کھویا ہوا مال ہیں۔سے جہاں کہیں یہ چیزیں ملیں وہ انہیں جھپٹ کر لے جائے۔یعنی کوئی محسن ایسا نہیں، کوئی خوبی اسے