خطبات محمود (جلد 2) — Page 64
ہی دنوں میں باندھکر ان کو سزائیں مل گئیں مگر حضرت اسمعیل علیہ السلام اور اس کی اولاد کی نسبت تو اللہ تعالے نے فرمایا ہے کہ باوجود سب دنیا کی مخالفت کے وہ اپنے سب بھائیوں کے نشا بود وباش کرے گا یعنی ان کی مخالفت ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔در اصل یہ ایک بہت بڑے انقلاب اور عظیم الشان تغیرات کی طرف اشارہ تھا جو ہمیشہ ہمیش کے لئے حضرت سہ میں علی اسلام اور انکی اولاد کے خلاف دنیا میں بپا ہونے والا تھا اور جسے اب دنیا آئے دن مشاہدہ کر رہی ہے جس دن سے حضرت سمعیل علیات ام کو مکہ کے پاک اور متبرک مقام پر کھڑا کیا گیا تھا اسی دن سے دُنیا میں اس عظیم الشان تغیر کی بنیاد رکھی گئی تھی آپ کو نہ مٹنے اور نہ بدلنے والے مقام پر کھڑا کیا گیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ دنیا کو اس کی اور اس کی اولاد کی طرف سے کھا جانیوالا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔قاعدہ کی بات ہے کہ بدلتی رہنے والی چیز اور مٹ جانیوالی ہستی کا لوگوں کو زیادہ خون نہیں ہوتا۔اصل خوف اور زیادہ ڈر اسی چیز کا ہوتا ہے جس کے متعلق خیال ہو کہ یہ نہ بدلے گی اور نہ مٹے گی۔کیونکہ بدلنے اور مٹ جمانے والی چیز کے متعلق وہ دلوں کو تسلی دے لیتے ہیں کہ چند روز بعد بدل جائے گی یا مٹ جائے گی مگر حضرت اسمعیل علیہ السلام کو جس مقام پر کھڑا کیا گیا تھا اس کے متعلق وعدہ تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیش قائم رہے گا نہ مٹے گا اور نہ بدلے گا۔اور یہی امر دنیا کی زیادہ مخالفت کا باعث ہوا۔غرض یہ رویا اس قربانی پر دلالت کرتی تھی کہ حضرت آجیل علیہ السلام کی اولاد کو صداقت اور حق کی تبلیغ و اشاعت کے لئے تمام دنیا کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو مذہب دیا گیا وہ اس حقیقت کا پورا ثبوت اور بین دلیل ہے۔اسلام کا اصل الاصول قربانی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اسٹیل کو قربان کر کے آئندہ نسلوں کے لئے ترقیات اور وصول الی اللہ کی سنت قائم کر دی اور کمال فرمانبرداری کا نمونہ دیکھا کر اپنا مذہب کھول کر بتا دیا ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان جب تک خدا کے لئے اپنے اوپر ایک موت وارد نہیں کرتا اور اللہ تعالے کی رضا کے لئے ہر قسم کی ذلت اور کروائی کو اپنے اوپر لینے کے لئے تیار نہیں ہو جاتا اور مشکلات اور مصائب کے خاردار کوہ و دشت میں نہیں پھینکا جاتا۔اور دنیا سے بالکل منقطع ہو کر کاٹا نہیں جاتا اس وقت تک قبول بھی نہیں کیا جاتا۔ابراهیمی سنت اور آنیلی ایثار و فرمانبرداری کا رنگ جب تک انسان اپنے اندر پیدا نہیں کرتا جس کا کامل نمونہ ہمارے نبی کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی زندگی میں کمال صبر اور کمال استقلال سے دکھا کر تحقیقی قربانی کی مثال ہمیشہ ہمیش کے واسطے بطور نمونہ اور اسود جستہ