خطبات محمود (جلد 2) — Page 65
14 قائم کر دی۔اور تو سب کو مدنی زندگی کے زمانہ میں رنگ لائی ، بار آور ہوئی اور اس قربانی کی قبولیت کا ثبوت اور منظوری کی شہادت اللہ تعالے نے اپنے فعل سے دی) اس وقت تک انسان کو خدا تعالے کے حضور نہ قبولیت کا شرف بخشا جاتا ہے اور نہ ہی وہ منظور نظر ہوسکتا ہے۔مگر لوگ بالعموم قربانی کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔میں دیکھتا ہوں طبائع میں عام طور پر کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا مادہ بہت کم پایا جاتا ہے۔نفس کا مارنا اور خدا تعالے کے احکام کے مقابلہ میں اپنی تہ خواہشات اور امنگوں کو قربان کر کے گردن ڈال دینا، اپنا آپ تقبلا کر تمام ترز خدا کے لئے ہو جانا اور ابار و استکبار کو ترک کر دینا نہایت ہی مشکل اور موت سے بھی سخت تر ہے۔بہت ہیں کہ نماز، روزہ ، حج اور زکوۃ کے پابند ہوں گے مالوں کی قربانی میں دلیری اور پیلے سے کام لیں گے۔نفسانی خواہشات کو قربان کر کے ایشیار کا ثبوت دیں گے۔ہر کئی اور جسمانی خدمات کے لئے کمربستہ ہوں گے اپنے اوقات گرامی کی قربانی کے لئے آمادہ نظر آئیں گے مگر تعمیل فرمانبرداری اور ترک اباد داستکبار کے امتحان میں کچنے نکلیں گے اور پیچھے رہ جائیں گے کیونکہ وہ اعمال کو ایسے ہیں کہ کرتے کرتے ان کی عادت پختہ ہو جاتی ہے۔اور وہ انسان کے ایسے عادت ثانی ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا ترک کرنا انسان کے واسطے مشکل ہو جاتا ہے۔مگر فرمانبرداری اس بات کا نام ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی روح اور اس کے قلب میں ایک ایسا احساس پیدا ہو جائے کہ وہ ان تمام احکام کی فرمانبرداری اور تعمیل کے لئے ایسا کمر بستہ ہو جائے کہ جب جب بھی کوئی حکم اللہ تعالے کی طرف سے ، اس کے رسولوں اور انبیاء کی طرف سے یا اُن کے نواب اور خلفاء کی طرف سے صادر ہو۔سو یہ اس کے ماننے اور فرمانبرداری کے لئے اپنے دل میں کوئی خلش نہ پائے۔اور تعمیل کے لئے بالکل تیار ہو۔ابارد استکبار اور نا فرمانی کا خپانی دہم تک بھی اس کے قلب میں نہ گزرے۔پیس انسان ہزار نمازیں پڑھے، صدقات دے ظاہری قربانیاں ادا کرے مگر جب تک وہ قلب سلیم نہیں جس میں یہ یقینی عوام ہو کہ خدا تعالئے کا مقابلہ نہیں کرنا ، ابا و استکبار نہیں کرنا اور خدا کے لئے ہر موت اپنے اوپر وارد کرنا منظور ہے تب تک کچھ بھی نہیں۔اور ایک شخص تھوڑی نمازیں پڑھنے والا اور کم تسبیح و تحمید کرنے والا اور ظاہری احکام کی پاندی میں بظا ہر دوسروں سے کم ہے۔مگر اس کے اندر وہ سعید روح موجود ہے اور دل میں سچا جوش اور تڑپ ہے کہ جب بھی کوئی حکم خدا تعالے کی طرف سے اسے ملتا ہے وہ اس کی تعمیل و فرمانبرداری کے لئے حتی الوسع تیار ہوتا ہے اور ابارد استکبار نہیں کرتا بلکہ خوش ہوتا ہے اور اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے کہ اسے بھی کسی حکم کی تعمیل کا موقع و توفیق ملی اور شکر کرتا ہے۔کہ وہ بھی اس قابل ہوا