خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 48

NA میں قربان نہ کر کے بچانا چاہتا ہے مگر نہیں بچا سکتا۔یا اس میں کہ جو خدا کے لئے ضرب کر ڈالتا ہے خرچ اس کی یہ چیزیں صنائع نہیں کی جاتیں۔ماننا پڑے گا اور ہر دانشمندا سے تسلیم کرے گا کہ دانشمندی اسی میں ہے کہ ان اشیاء کو خدا کے لئے قربان کر دیا جائے تا کہ دہ ضائع نہ ہوں کیونکہ ابدی نجات خدا کے لئے قربانی کرنے میں ہے۔اور ابدی بلاکت خدا کے لئے قربانی کرنے میں سنجل میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَونَ يَكُونُ يراما - ان کو کرو کہ خدا کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تمہاری دعانہ ہو۔پس ضرور تم نے جھٹلایا اس جھٹلانے کے وبال سے تم بیچا نہیں سکتے ہیں السلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ہوا جیس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان بھیڑوں سے کہو کہ تم ہو کیا چیز غلاظت کھانے والی بھیڑیں ہی ہوا۔تمہاری تخلیق نطفہ سے ہے جو ایک حقیر پانی ہے۔اگر تم خدا کی رضا کے حصول کی طرف نہیں آتے تو اس کو تمہاری کچھ پروا نہیں۔بچہ کو مٹی کے کھلونے کی پروا ہوتی ہے۔مگر خدا کو تمہاری اتنی بھی پروا نہیں۔اگر تم اس کی عبادت کرو تو اس کی شان بڑھ نہیں جاتی اور اگر انکار کرہ ہو تو اس کا کچھ کر ج نہیں ہوتا۔ایک بچہ کو کھلونا توڑتے وقت تکلیف محسوس ہوتی ہے مگر خدا کو ساری دنیا کے ہلاک کر دینے میں اتنی پروا نہیں ہو سکتی۔ہاں تمہاری دعائیں اور التجائیں ہیں جن کی وجہ سے وہ تم پر رحم فرماتا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہد میں جب خلافت اور انجین کی حیثیت اور تعلقات کا جھگڑا اُٹھا تو اس کے متعلق حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے چند سوال میرے پاس بھی بھجوائے اور ان کا تحریری جواب دینے کے لئے ارشاد فرمایا۔چونکہ یہ معاملہ نہایت نازک اور اہم تھا اور جماعت پر بڑا اثر ڈالنے والا تھا۔اس لئے میں ڈرا کہ اس میں کوئی ایسی رائے نہ دے دوں میں سے خدا کے عذاب کا مستوجب ٹھہروں یہ اگر چہ میں خلیفہ کو انجمن کا مطاع یقین کرتا تھا لیکن بغیر دعا کے میں نے اس کے متعلق رائے نہ دینا چاہی۔اس لئے میں دعا میں مصروف ہو گیا۔اور خدا سے اس بارے میں مدد طلب کی۔کیونکہ میں چاہتا تھا کہ خدا تعالے بالکل کھلے اور واضح طور پر مجھے الهام پا کشف و رویا کے ذریعہ اس حقیقت پر مطلع فرماد ہے۔پس میں دعا میں مصروف رہا۔لیکن مجھ کو چھ نسیم نہ ہوئی حتی کہ وہ دن آگیا جو آخری تاریخ حضرت خلیفہ اسیح نے جواب دینے کے لئے مقرر فرمائی تھی۔اور صرف ۲۴ گھنٹے اس میں باقی رہ گئے۔اس وقت میں سخت مضطرب ہوا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ چونکہ مجھے خدا کی طرف سے کچھ نہیں بتایا گیا اس لئے میں اس مجلس میں سہی نہیں جاؤں گا کہیں اور باہر چلا جاؤں گا۔لیکن اس ارادہ پر بھی اطمینان نہ ہوا۔آخر جب النطراب نہ یادہ ہوا۔تو اس وقت مجھے الہام ہوا کہ قتل مَا يَعْبَوا بِكُمْ رَة لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ