خطبات محمود (جلد 2) — Page 47
کام اب سوال ہوتا ہے کہ حضرت موستی کے پاکس، حضرت نوح کے پاس، حضرت عیسی کے پاس اور بالآخر ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وہ کیا چیز سنتی۔جس کی وجہ سے خدا نے ان کو یہ رفعت بخشی اور ذلیل کرنے والوں کو ذلیل در سوا ہی نہ کیا بلکہ صفحہ عالم سے مٹا دیا۔وہ محض صداقت اور حق تھا جو اُن کو دیا گیا اور ان کی قربانی تھی ہو انہوں نے خدا کی رائے میں کی۔چونکہ ان کا مقابلہ کرنے والے دراصل ان کو نہیں مٹانا چاہتے تھے بلکہ وہ خدا کا مقابلہ کہ رہے تھے، اس لئے خدا کو ان کے تباہ کرنے میں کیا پرواہ ہو سکتی تھی۔پیس جو قربانی خدا کے لئے کی جائے وہ ہر گز صنائع نہیں جاتی بلکہ اس سے ہمیشہ کی بقا حصل ہو جاتی ہے اس لئے ہر ایک انسان کو چاہیئے کہ اپنے آپ کو خدا کی راہ میں قربان کر کے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرے۔ورنہ قربان تو اسے ہونا ہی ہے۔اگر خود بخود نہ ہوگا تو خدا تعالے کا ہاتھ اسے کر دے گا۔لیکن اس طرح اس کا قربان ہونا کسی مصرف کا نہ ہو گا۔پس مبارک ہے وہ سپنے خود اپنے آپ کو خدا کی۔اہ میں قربان کیا۔اور ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا۔اور ہلاکت ہے اس کے لئے جیسے خدا نے تباہ و برباد کر دیا۔اس لئے وہی راہ اختیار کرنا چاہیئے جس سے ہمیشہ کی سلامتی نصیب ہوتی ہے۔دیکھو مشال دو جگہ آگ جل رہی ہو۔اور انسان کو اختیار دیا جائے کہ ان میں سے جس میں بچا اپنے آپ کو ڈال دے۔جس میں سے ایک میں گرنے کا تو یہ نتیجہ ہو کہ جو اس میں گرے وہ ہمیشہ کے لئے تباہ ہو جائے اور دوسری کا یہ انجام ہو کہ جو اس میں پڑے اس کو ایسی نہ بندگی دی جائے ہیں کا کبھی انقطاع نہ ہو تو بتاؤ ان میں سے کونسی آگ میں گرنے والا عقل مند کھائے گا یا وہی جو اپنے جسم کو ایسی آگ میں جلائے گا جس میں مل کر ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوتی ہے ایسی پر نیاس کر لو کہ انسان ایک ایسی بستی ہے کہ جس پر ضرور فنا آنی ہے خواہ وہ ہزار چاہیے کہ بچے سکوں تو بھی نہیں بچ سکتا۔اسی طرح اپنے مال کو سنبھال سنبھال کر رکھنے کی ہزار کوشش کرتے وہ غریہ خرچ ہو گا یا چرا یا جائے گا یا کوئی اور آفت آئے گی، زمین میں گاڑ کر بھول جائے گا۔اسی طرح بال بچے ہیں ، معز یز و بیشتہ دار ہیں، ان سب سے ایک نہ ایک دن ضرور۔جدائی اختیار کرنی پڑپتی ہے وہ اس کو چھوڑ جائیں گے یا یہ ان کو چھوڑ جائے گا۔اور اگر انسان چاہے بھی کہ ان سے جدا نہ ہو تو اس کو اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔لیکن جو جان خدا کے رستہ میں خرچ ہو۔جو مال اس کی راہ میں صرف ہوا ور جن عزیزوں کو خدا کے لئے قربان کیا جائے ان میں سے ایک چیز بھی الگ نہیں کی جاسکتی بلکہ وہ اس سے بڑھا چڑھا کر اس کو دی جاتی ہیں تو کیوں نہ انسان ان چیزوں کو خدا کے لئے بھی صرف کرے۔دانائی کس میں ہے با آیا اس میں کہ وہ ان چیزوں کو کہا کی راہ