خطبات محمود (جلد 2) — Page 352
۳۵۲ یہ بھی تو دیکھنا چاہیئے کہ کیا چیز آئی ہے جس سے ہر انسان خوشی سے معمور نظر آتا ہے کسی جگہ مٹھائیا بٹ رہی ہوتی ہیں تو دریافت کیا جائے کہ یہ خوشی کیسی ہے ؟ تو لوگ کہتے ہیں دلہن آگئی ہے۔اور دلہن ایک چیز ہے جو ہمیں نظر آتی ہے۔کسی جگہ پہ خوشیاں منائی جاتی ہیں اور چھوہارے میٹ رہے ہوتے ہیں لوگ پوچھتے ہیں کیا ہوا تو انہیں کہا جاتا ہے نکاح ہو گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ کل کو دلہن آئے گی کہ بھی خوشیاں منائی جاتی ہیں کہ لڑ کا پاس ہو گیا ہے اور ہمیں نظر آتا ہے کہ کل وہ لڑکا ہی۔اسے نہیں تھا، آج ہی۔اسے ہو گیا ہے۔کل وہ لڑ کا اہم اسے نہیں تھا آج ایم۔اے ہو گیا ہے۔کل اس پر بعض نوکریوں کے دروازے بند تھے آج وہ درواز سے اس کے لئے کھل کے ہیں۔پھر یہ عید کیا چیز ہے۔ہمیں کوئی چیز نظر تو نی چاہیے۔لوگ کہ رہے ہیں فید گئی نیند آگئی۔وگ است ہوئے جار ہے ہیں شور پڑ رہا ہے اور اتنا شور ہے کہ خطبہ بھی سنائی نہیں دے رہا، آخر یہ کیا چیز ہے۔ظاہر ہے کہ پہلی چیز تو یہ ہی ہے جو میں نے تہائی ہے یعنی ابراہیم اور اسمعیل علیہما السلام کی قربانی اور اس کا نتیجہ۔دوسری بات یہ ہے کہ آج کے دن ہمیں دو چیزیں ملتی ہیں جو یا توکل تک ہمیں نہیں ملی تھیں یا جن کا کل تک ہمیں تین نہیں تھا۔آج کی عید ایک تو یہ خبر لائی ہے کہ پھو نے چودہ سو سال کے بعد بھی مسلمان اپنے مرکز پر قائم ہیں۔آج بھی ساری دنیا کے مسلمانوں کے نمائندے اس مقام پر گئے ہیں جہاں سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہر ہوئے جہاں اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔آج افریقہ سے بھی کچھ مسلمان وہاں گئے ہیں۔ایشیاء سے بھی کچھ مسلمان داں گئے ہیں۔یورپ سے بھی مسلمان وہاں آئے ہیں ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آیا امریکہ سے بھی مسلمان حج کے لئے آئے ہیں یا نہیں لیکن دہ زمانہ یقینی طور پر آنیوالا ہے کہ امریکہ سے بھی لوگ وہاں آئیں گے اور شاید اس سال بھی بعض مسلمان امریکہ سے حج کے لئے آگئے ہوں تاکہ وہ اپنے ملک کو اس الزام سے بچائیں کہ امریکن لوگ حج نہیں کرتے۔یورپ سے تو بعض مسلمان حج کے لئے آجاتے ہیں۔خصوصا مشرقی اور جنوبی یورپ میں مسلمان پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک تعداد جج کے لئے بھی آتی ہے۔بہر حال آج ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان پھر ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے ہیں۔اور انہوں نے پھر اس بات کی شہادت دی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لایا ہوا دین آج بھی زندہ ہے۔آپ کے خادم آج بھی آپ کی آواز کو بلند کرنے کے لئے دنیا ہیں موجود ہیں اور یہ بات ہمارے لئے کتنی خوش کن ہے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ماں بنات کے پاس سے کوئی شخص ہمیں ملنے کے لئے آتا ہے۔تو ہم پوچھتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ کا کیا حال ہے اگر وہ ان کی خیریت کا پتہ دیتا ہے تو ہم کہتے ہیں الحمد للہ۔عید بھی ہمارے لئے ایک سندیسہ