خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 333

غالب کرتی ہیں تو ہماری خوشی ایسی ہی ہوگی جیسے گیدیوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ رات کو اکٹھے ہوتے ہیں۔تو شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ پدرم سلطان بود - ہمارا باپ بادشاہ تھا اس پر ایک گیٹڈ آمنے نکل کر انہیں کہتا ہے، ترا چہ قیلہ گو تمہارا باپ پادشاہ تھا تو پھر تمہیں کیا۔گیدڑ تو تینی گیرانی بادشاہت یاد دلاتے ہیں۔ہم لوگوں کو اپنی آئندہ بادشاہت یاد دلا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک صدی کے بعد دیکھ لینا ، سب دنیا پر ہمارا ہی غلبہ ہوگا وہ کہتا ہے اول تو مجھے یقین بعد ، ہی نہیں اور اگر ایسا ہو بھی گیا تو پھر ترا چہ سمجھے کیا۔جن کے زمانہ میں جماعت پھیلے گی وہ فخر بھی کر لیں گے۔اور خوش بھی ہوئیں گے، تمہیں کیا حق حاصل ہے کہ تم خوشیاں مناتے پھرو۔تمہارے ہاتھ سے تو پھیلی بادشاہت بھی گئی اور آئندہ کی بھی تمھیں امید نہیں۔مثل مشہور ہے کہ ایک شخص نے کسی سے کہا کہ دو آدمی حلوے اور مٹھائیوں کی سینیاں اٹھائے ہوئے آ رہے تھے۔وہ کہنے لگا پھر مجھے کیا۔اس نے کہا نہیں وہ تمہارے گھر کی طرف آرہے تھے۔وہ کہنے لگا پھر تجھے کیا یعنی اگر وہ کہیں اور جا رہے تھے تو پھر مجھے کیا۔اور اگر وہ میری طرف آرہے تھے تو پھر تجھے کیا۔کہ تو خوش ہو رہا ہے۔اگر تمہاری اولادوں نے ہی کامیاب ہونا ہے۔تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ ترا چہ۔تم کو کیا۔تم کو تو بھی خوشی ہو سکتی ہے جبکہ تم آنے والی کامیابی اور فتح میں خود حصہ ہو۔یہ کیا کہ گھروں میں آرام سے سوئے ہوئے ہو ا رات دن کے کاموں میں مشغول ہو ہستی اور فضلت تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتی اور آئنڈ آنیوالی نسلوں نے جو فتح حاصل کرنی ہے اس پر تمھارا سر اونچا ہورہا ہے اور تم خوشی سے جھوم رہے ہو ، آنے والے آئیں گے۔اور کامیابیاں حاصل کریں گے، تو خوش بھی ہو لیں گے، تمہارا کیا حق ہے کہ تم خوش ہوتے پھر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو فتح اور کامیابی حاصل کی تھی اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو فخر کر سکتے تھے لیکن اگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے داد سے پرداد سے فخر کرتے کہ ہماری نسلی میں سے ایک ایسا انسان پیدا ہوگا۔جو دنیا میں عظیم انسان کامیابی حاصل کرے گا تو ہر شخص انہیں یہی کہتا کہ تراجہ تمھیں کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دنیا میں آئیں گے اور فتح حاصل کر لیں گے تو خوشی بھی منا لیں گے، تم کو کیا حق حاصل ہے کہ تم خوشی مناتے پھرو۔اسی طرح اگر تمھاری کامیابی نے بھی ڈیڑھ نسو سال کے بعد آتا ہے اور تم نے اس کی بنیا دیں بھی نہیں رکھیں تو پھر تمہیں کیا ، آنیوالے آئیں گے تو فخر بھی کرلیں گے۔پس اپنے حالات میں تبدیلی پیدا کرو۔تم میں سے بعض کی مثال اب اس شخص کی سی ہو گئی ہے۔جو افیون کھاتے کھاتے افیون کا قاری ہو جاتا ہے۔میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ تمہیں اتنے وعظ سنائے گئے ہیں ، دنیا کی اور کسی قوم کو اتنے وعظ نہیں سنائے گئے مگر تم من چکنا گھڑا ثابت ہوئے ہو تم نے بھی وعظ سکے مگر ان کا اثر قبول نہ کیا۔