خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 311

۳۱۱ عید منائی جاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ سلام نے خدا تعالے کی راہ میں بکرا قربان کیا تھا یکجرے کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے اور پھر وہ لوگ جو جنگل میں رہنے والے ہوں اور جن کا گزارہ ہی جانوروں پر ہو، وہ تو بکرے کی کوئی حیثیت ہی نہیں سمجھتے بلکہ بکرے کی قربانی ان کی نگاہ میں انڈے سے بھی زیادہ حقیر ہوتی ہے۔انہیں انڈے کا میسر آنا زیادہ مشکل ہوتا ہے لیکن سیکرا بڑی آسانی سے مل جاتا ہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے متعلق تو با نسل سے تپہ لکھتا ہے کہ ان کے کئی گئے تھے اسی طرح ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے بھی کئی محلے تھے کئی نوکر انہوں نے رکھے ہوئے تھے اور جانور اس کثرت کے ساتھ ان کے پاس تھے کہ ان سے وادیاں بھر جاتی تھیں تیے پس بکرے کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے کچھ بھی مشکل چیز نہیں تھی۔جو چیز مشکل نفتی وہ یہ تھی کہ بڑھاپے کے زمانہ میں پیدا ہونے والا اکیلا نچہ ان کے ہاں موجود ہے اور خدا کتنا ہے کہ اس بچے کو میری راہ میں قربان کر دو۔اور ابراہیم کہتا ہے کہ ہے میرے رب میں اس کے لئے تیار ہوں۔اور پھر وہ عملی طور پر چھری ہاتھ میں لے کر اسے ذبح کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔پھر حضرت آنفیل علیہ السلام کو وادی غیر ذی زرع میں رکھے جاتے کا حکم دیتے ہیں اللہ تعالے کی طرف سے اس طرف بھی اشارہ تھا کہ دنیا میں جب بھی کوئی نیا سلسلہ اللہ تعالے کی طرف سے قائم کیا جاتا ہے وہ ایک دادی غیر ذی زرع کا سارنگ رکھتا ہے جس طرح ایسی وادی میں بسنا انتہائی مشکلات کا موجب ہوتا ہے اسی طرح اپنی سلسلوں میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں۔وہ بھی مقصود معتوب اور لوگوں کی نگاہ میں مغضوب بن جاتے ہیں۔لوگ ہر طرح انہیں تکالیف دینے اور ہر کار کی کوشش کرتے ہیں اور ہر رنگ میں انہیں کھ اور اذیت پہنچاتے ہیں اسلئے انبیاء اور مامورین کا سلاد بھی ایک ادتی فیروزی زریع سے ریاست رکھتا ہے پھر اس وقت تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے وادی غیر ذی زرع کا ایک اور نظارہ بھی پیدا کر دیا ہے۔قادیان ہمارا مرکز ہے مگر ان دنوں جو لوگ وہاں میں رہے ہیں ، ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں۔کیونکہ وہ لوگ وہاں محبوس ہیں اور ہر شخص بغیر کمائی کے اپنی زندگی کے دن بسر کر رہا ہے۔میں جماعت کے تمام افراد سے پوچھتا ہوں کہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادیں دہ بکرے کا گوشت کھاتے ہیں وہاں وہ ان کی اس قربانی کی یاد میں کہ انہوں اپنے اپنے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ایک وادی غیر ذی زرع میں جا کر چھوڑ دیا تھا۔کونسی قربانی پیش کر رہے ہیں۔قادیان اس وقت ایک وادی غیر ذی زرع کا رنگ رکھتا ہے اور وہاں رہنا اپنے آپ کو بے آب و گیاہ بستی میں جا کر بہا دینا ہے۔میں تم سے پوچھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح تم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔