خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 310

+ کی راہ میں ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے بجرے کو رکھا تھا مگر ہم تمثیل کو قبول کرتے ہیں حقیقت کو رد کرتے ہیں۔ہماری زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں۔ہماری اولادوں کی نہ ندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں، ہمارے بھائیوں کی زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں۔ہمارے ہمسایوں کی زندگیاں گزرتی چلی جاتی ہیں مگر ہم میں سے کوئی بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی پیش نہیں کرتا لیکن ہم میں سے ہر شخص ابراہیم کے بکرے میں سے گوشت کھانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔یہ تو وہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی پور بیا مر گیا۔وہ آسودہ حال تھا اور روپیہ کا استعمال صحیح طور پر کرتا تھا کہیں تجارتوں میں اس نے اپنا روپیہ لگایا ہوا تھا۔کہیں سود پر روپیہ دیا ہوا تھا۔کہیں قرض دیا ہوا تھا۔اس کی وفات کے بعد پوریوں کے دستور کے مطابق ماتم شروع ہوا۔پوریوں میں دستور ہے کہ تمام پوربی جمع ہو جاتے ہیں اور عورت بین ڈالنا شروع کرتی ہے جس میں وہ اپنی مشکلات کا ذکر کرتی ہے اور قوم ان مشکلات کا جواب دیتی ہے گویا وہ ایک قسم کا مشورہ ہو رہا ہوتا ہے۔وہ اپنے حالات کا ذکر کرتی جاتی ہے اور قوم اسے جواب دیتی جاتی ہے۔اس طرح سب لوگوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آئندہ یہ بیوہ اور بچے کس طرح زندگی بسر کریں گے ، اسی رواج کے مطابق اس پور بی عورت نے بلین ڈالنے شروع کئے۔کہ ہائے میرے خاوند کے اتنے روپے فلاں کے ذمے تھے اب وہ روپیہ کون وصول کرے گا اس پر ایک پور بیا آگے بڑھا اور اس نے کہا ہم رے ہم۔پھر اس نے بین ڈالا اور کہا اتنا روپیہ اس نے تجارت پر لگایا ہوا تھا۔اب کون اس روپیہ کو لے گا۔اس پر وہ پھر کھڑا ہوا اور کہنے لگا ہم رہے ہم۔پھر اس نے روتے ہوئے کہا کہ فلاں شخص کو اس نے اتنا روپیہ سود پر دیا ہوا تھا اب کون اس سے روپیہ وصول کرے گا۔اس پر وہ پھر بول اٹھا کہ ہم رہے ہم۔غرض جتنی وصولیاں تھیں وہ اس نے بیان کرنی شروع کر دیں اور ہر وصولی کے ذکر پر وہ پور بیا فورا جواب دیا کہ ہم رہے ہم۔اس کے بعد اس نے ذمہ داریاں بیان کرنی شروع کیں اور کہا کہ اس نے فلاں کا انتشا روپیہ قرض دیا تھا۔اب وہ کون دیگا ؟ اس پر وہ پور بیا اپنی قوم کے دوسرے افراد کی طرف منہ کر کے کہنے لگا۔ارے میں ہی جواب دنیا جاری یا کوئی اور بھی بولے گا، گویا جب تک وصولیوں کا ذکر تھا وہ ہر وصولی کے ذکر پر آگے بڑھتا اور کتنا ہم رہے ہم۔اور جب قربانی کا وقت آیا تو کہنے لگا ارے میں ہی بولتا جاؤں یا کوئی اور بھی بولے گا یہی حال ہمارا ہے، جب بجرے کے گوشت کھانے کا وقت آتا ہے تو ہم کہتے ہیں اسے ہم سے ہم اور جب بیٹے کی قربانی کا وقت آتا ہے تو ہم بھی اس پور بئے کی طرح یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اسے کوئی اور بھی بولیگا یا ہم ہی بولتے چلے جائیں۔ہمیں غور کرنا چاہیئے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کونسی قربانی تھی جس کی یاد تازہ رکھنے کے لئے ہر سال عید منائی جاتی ہے۔کیا ہر سال اس لئے