خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 263

له آج بعض دوستوں کی طرف سے تحریک کی گئی تھی کہ اعلان کر دیا جائے کہ سب لوگ خطبہ کے لئے بیٹھے رہیں کوئی خطبہ ختم ہونے سے پہلے نہ جائے۔مگر میں نے اس سے روک دیا کیونکہ قربانی کے لئے یا اور اشد ضرورتوں کے لئے چلے جانا جائز ہے تلے مگر میں نے دیکھا ہے کہ قریبا سب لوگ آپ ہی آپ بیٹھے رہے ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے آواز ہر جگہ آسانی سے پہنچ رہی ہے۔یا شاید اللہ تعالے نے ہی ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ نسب کے سب بیٹھ کر خطبہ سنیں۔اسی طرح مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھے لکھا ہے کہ جو روزہ اس عید کے موقع پر رکھا جاتا ہے وہ نعت نہیں، اس کا اعلان کر دیا جائے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق ثابت ہے کہ آپ صحت کی حالت میں قربانی کر کے کھاتے تھے خلیے تاہم یہ کوئی ایسا روزہ نہیں کہ کوئی نہ رکھنے تو گنہگار ہو جائے۔یہ کوئی فرض نہیں بلکہ نفلی روزہ ہے اور ستحب : جو رکھ سکتا ہو رکھے مگر جو بیمار، بوڑھا ، یا دوسرا بھی نہ رکھ سکے وہ مکلف نہیں اور نہ رکھنے سے گنہگار نہیں ہو گا۔مگر یہ بالکل بے حقیقت بھی نہیں جیسا کہ مولوی بق پوری ملر نے لکھا ہے میں نے صحت کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔پھر مسلمانوں میں یہ کثرت سے رائج ہے اور یہ یونہی نہیں بنا لیا گیا بلکہ مستحب نقل ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعامل رہا اور یہیں پر عمل کرنے والا ثواب پاتا ہے مگر جو نہ کرنے اسے گناہ نہیں۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے اس عید کو ہمارے لئے حقیقی عید بنائے اور اسے اسلامی ترقیات کا موجب کرے۔ہم میں باہمی محبت اور الفت پیدا کرے اور مخالفتوں البغض و عناد اور عداوتوں کو دور کردے۔اور سب کے دلوں میں حقیقی ہمدردی اور محبت پیار پیدا کرے۔ہماری مستیوں اور کوتاہیوں کو دور کر کے محنت کی عادت ڈال دے تاہم دنیا میں کار آمد اور مفید وجود بن سکیں اسکے ذلیل اور ناکارہ نہ ہوں، آمین۔والفضل ۱۷ جنوری ۹۳له ) البقره ۲ : ۱۲۷ - الحج ۲۰:۲۲ - الصفت ۳۷ : ۱۰۳-۱۰۴ و الصلت ۳۷ : ۱۰۶