خطبات محمود (جلد 2) — Page 234
۳۳۳ سے سوال کیا کیا کہ یا رسول الله اعربوں میں سے کونسے لوگ زیادہ معزز ہیں۔تو آپ نے فرمایا عربوں ے تو خاندان جامعیت میں زیادہ درجہ رکھتے تھے وہی اسلام میں بھی زیادہ درجہ رکھیں گے بشر طیکہ وہ خود بھی متقی ہوں ہے اس میں بھی آپ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔کہ اپنے آبا د کے کاموں پر فخر کہ نا یا ان کی عورت میں اپنے آپ کو شریک سمجھنا ایک فطری تقاضا ہے جس سے اسلام درد نہیں سکتا وہ صرف انتی پابندی کاتا ہے کہ تم اپنے اندر ذاتی مشرف بھی پیدا کرو تا کہ اپنے آباد کی عزت کی خوشی پر خوشی مناکر تم منافق مت بنو اور جس چیز کو ایک وقت میں عزت کا موجب قرار دو، دوسرے وقت میں اسے حقیر قرار دے کہ اور متردک کر کے اس سے بیزاری کا اظہار نہ کرو۔کیونکے جب کوئی شخص ایک شرف کو حاصل کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔یا غفلت برتتا ہے تو وہ اپنے فعل سے ثابت کر دیتا ہے کہ وہ اسے شرف نہیں سمجھتا۔پس کسی دیانت دار انسان کا حق نہیں کہ وہ بعض افعال کو تحقیر کے ساتھ ترک کر دے اور پھر انہی افعال کی وجہ سے اپنے باپ دادا کی عزت کا اعلان کرے۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں فلاں دادا کی اولاد ہوئی جو بڑا بہادر تھا اور خود بزدلی دکھاتا ہے تو وہ در حقیقت دو اصدار کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ وہ نقیضین کو ایک جگہ جمع کرتا ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ میرا دادا بہادر آدمی تھا۔اور دوسری طرف وہ قربانی سے گریز کرتا ہے اس کا یہ فعل بتاتا ہے کہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے یا تو وہ جب اپنے دادا کے افعال پر فخر کرتا ہے تو وہ دوسروں کو بیوقون بناتا ہے ، ورنہ اپنے دل میں اپنے دادا کو معزز نہیں سمجھتا بلکہ ایک بیوقوف انسان سمجھتا ہے جو اپنی جان کو خواہ مخواہ بلا ضرورت اور بلا وجہ خطرات میں ڈال دیا کرتا تھا۔اور یا پھر وہ اس کے افعال کو تو اچھا سمجھتا ہے لیکن اپنے آپ کو ایک پاجی اور ذلیل انسان سمجھتا ہے جو شرافت کے احساسات سے عاری ہے اور اتنے گندے وجود پر شرف کا جبہ مینانا بالکل احمقانہ بات ہے۔غرض یہ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔اگر تو ایسے شخص کے آباد جو خود بزدل ہے بوجہ بہادری اور جرات دکھانے کے مکرم در معزز ہو گئے تھے تو اگر یہ قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں تو ان کی عزت اور ان کا شرف اسے کوئی نفع نہیں دے سکتا۔اوراگر خطرہ سے جان بچانا ہی عزت ہے اور یہی عقل ہے اور یہی مناسب ہے تو پھر یہ کہنا کہ اس کے آباء مکرم اور معزز تھے یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے کیونکہ اگر قربانی سے بچنا عقلمندی ہے تو پھر جن لوگوں نے قربانی کی وہ جاہل اور نادان تھے اور ہر گز کسی عزت کے مستحق نہ تھے۔پر ایسے شخص کے لئے دو طریق میں سے ایک کو اختیا کرنا لازمی ہوگا۔یا تو اسے یہ کہنا پڑے گا کہ میرے آباء ور قاعدہ اور جمع تھے اور کسی شرف کے مستحق نہیں تھے۔اور یا پھر اسے یہ کہنا پڑے گا کہ میں ایسا