خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 233

د فرموده یکم فروری ۱۹۳۶ء بمقام عید گاه قادریان) سلمانوں میں دو عیدیں منائی جاتی ہیں۔ایک حمید، عید الفطر کہلاتی ہے جسے ہمارے ملک کے لوگ چھوٹی عید کہتے ہیں اور دوسری عید۔غیدان صحیہ کہلاتی ہے جسے ہمارے ملک میں بڑی عید کتنے ہیں۔ان کے علاوہ جمعہ بھی مسلمانوں کے نزدیک عید ہے لیے اور چونکہ قرآن کریم میں جمعہ کی نماز کا خصوصیت کے ساتھ ذکر آتا ہے اس لئے بعض اولیاء نے جمعہ کی نیند کو ان دونوں عیدوں سے بھی بڑا قرار دیا ہے یہ ہر حال اجتماع کے لحاظ سے یہ دونوں عیدیں اپنے اند ر خصوصیت رکھتی ہیں اور چونکہ خوشی کا مظاہرہ لوگ جلد جبلہ نہیں کر سکتے۔اس لئے بھی ان عیدوں کی لوگ زیادہ خوشی سناتے ہیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان کے متعلق فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے کھانے پینے کے دان ہیں کہ گویا اس طرح ان عیدوں کی اجتماعی خوشی کے لحاظ سے آپ نے ایک جداگانہ حیثیت قرار دی ہے۔پس ان عیدوں میں جو سبق ہے وہ جمعہ کی عید سے مختلف قسم کا ہے اور ہمیں اس سبق کے سمجھنے اور اسے یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔اس سبق کے سمجھنے سے پہلے ہمیں انسانی فطرت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیئے کہ انسان کو جو خوشی پہنچتی ہے ، وہ کتنی قسم کی ہوتی ہے۔چنانچہ جب ہم انسانی فطرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں انسانی خوشی دو قسموں میں منقسم معلوم ہوتی ہے۔ایک خوشی تو وہ ہوتی ہے جس کا منبع انسان کا اپنا وجود ہوتا ہے اور دوسری خوشی وہ ہوتی ہے جو دوسروں سے اسے ورثہ میں ملتی ہے جسے متعدی خوشی کہنا چاہیئے۔یعنی پہلے اس خوشی کو چند افراد حاصل کرتے ہیں اور پھر آگے اسے اپنی اولادوں اور اولادوں کی اولادوں کی طرف منتقل کر دیتے ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ چیز انسانی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنے آباء کی عزت اور خوشی میں اپنی خوشی اور عزت سمجھتا ہے۔چنانچہ قومی فخر یا خاندانی فخر اسی کی مثال ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی جب پوچھا گیا کہ کونسا شخص زیادہ اشرف ہے تو آپ نے فرمایا کہ یوسف جو نبی کا بیٹا تھا اور پھر جو آگے ایک اور نبی کا بیٹا تھا کہ گویا حضرت یوسعت کی عزت کی وجہ آپ نے یہ قرار دی کہ وہ ایک نبی کا بیٹا تھا اور اس کا باپ پھر ایک بنی کا بیٹا تھا۔گو یا متواتر اس کے آباد میں سے دو بالوں کو نبوت کا فخر حاصل ہونے کی وجہ سے حضرت یوسعت کی موت بھی بڑھ گئی ، اور اس لحاظ سمجھنا چاہئیے کہ اس کی خوشی بھی بڑھ گئی۔اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم