خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 226

میں آئی تو اس نے کہدیا کہ میں اسے ہاتھ میں رکھنے کے لئے ہر گز تیار نب ہوجہ یزید کے نہایت قریبی ہونے کے شاید لوگ اس کی تعریف کرتے ہوئے ڈرتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اس کی تعریف کی تو ایسا نہ ہو کہ یہ تعریف یزید کی سمجھی جائے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خواہ اس میں کتنی ہی مز یہ ریاں ہوں۔وہ ایک پاک طینت شخص تھا۔یہ نتیجہ نا ان ظاہری مصائب کا جو اس نے اپنی آنکھوں سے اہل بیت پر وارد ہوتے دیکھے اور انہی ظاہری مصائب نے یزید کے بیٹے کو حضرت علی اور حضرت امام حسین کا غلام بنا دیا۔مگر اسلام پر جو ہر چھٹی چلائی جا رہی ہے وہ مخفی ہے وہ بظاہر نظر نہیں آتی لیکن اس کا حملہ بڑا خطرناک ہے۔آج ساری دنیا متحد ہے اور وہ اپنی متفقہ کو ششوں سے چاہتی ہے کہ مظلوم اور میکس اسلام کو مٹادے اور اس کا کوئی نام لیوا دنیا میں نہ ہے ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آتے ہیں اور کتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔کہ ہم اسلام کی محافظت کریں گے۔تم اپنی جانیں اس کی راہ میں قربان کر دیں گے مگر پھر وہ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ جاتے ہیں اور انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ انہوں نے کیا اقرار کیا تھا۔ہماری وہ قربانیاں جنہیں ہم قربانیاں کہتے ہیں اور جن کو قربانیاں کہنا بھی قربانیوں کی بہتاک کرنا ہے ، اسلام کی مشکلات کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتی ہیں پھرا بھی تو ہم صرف مالی قربانیاں کر رہے ہیں جانی قربانی کا موقع تو بالعموم مہندوستان سے باہر ان حکومتوں میں ہی میسر ہے جہاں لوگ احمدیت کے اقرار کی ویسے قتل کئے جاتے ہیں۔پھر وقت کی قربانی بھی بہت کم لوگوں کو میسر ہے اسی طرح وطن کی قربانی جذبات و احساسات کی قربانی آرام و آسائش کی قربانی اور دیگر بہت سی قربانیاں بہت ہی کم لوگوں کو میستر ہیں اور پھر مانی قربانی میں بھی صحیح طریق عمل اختیار نہیں کیا جاتا۔بہت سے لوگ ہیں جو وعدے کرتے ہیں مگر انہیں پورا نہیں کرتے۔بہت سے لوگ ہیں جو وعدے کرتے ہیں مگر انہیں میعاد کے آخر میں پورا کرتے ہیں بہت سے لوگ ہیں جو وعدے کرتے ہیں مگر دعدوں کو پورا کرنے کے لئے سامان ہم نہیں پہنچاتے۔میں نے تحریک جدید کے شروع میں ہی کہا تھا کہ اگر تم کوئی وعدہ کرتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم وہ ماحول بھی پیدا کر و جس کے ماہخت تم اپنے وعدے کو آسانی کے ساتھ پورا کر سکو۔اگر تم صرف ایک ہی کھانا نہیں کھاتے بلکہ کئی عمدہ سے عمدہ کھانے تیار کر واکر کھاتے ہو۔اگر تم سادہ کپڑے نہیں پہنتے بلکہ لباس بہت سا روپیہ بجا طور پر صرف کر دیتے ہو۔اور اس طرح تمہارے پاس کچھ نہیں بچتا۔تو اگر تم نے تحریک جدید میں سو روپے دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے سوروپے تم نے وصیت کا دنیا ہے اور سو روپے تمہارا کوئی اور چندہ ہے تو وہ تین سو روپے تم کہاں