خطبات محمود (جلد 2) — Page 227
سے دو گے۔جب تم نے اس روپے کے لئے کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔جبکہ اپنی آمد کے برا بر میلے سے ہی تم شرح کی ہے ہو تو نہ مرا پیر ہو مجھے کس طرح اٹھا سکتے ہو۔اس صورت میں اگر تم ہو یا دوستہ روپے کا وعدہ نبی لکھا دیتے ہو تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ تم نے محض نام و نمود کے لئے وحدہ لکھوا دیا ورنہ تمہاری نیت ترین سے ہی ہی ہے۔تقر وعدہ پورا نہ کرو۔پس جب تک کھانے اور پینے اور پہننے اور رہائش کے طریق میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔اس وقت تک کسی مالی قربانی کی توانیاں نہیں مل سکتی۔اور اگر تم ان حالات میں کوئی وعدہ کرتے ہو تو تم خدا تعالے سے تمسخر کہتے ہو اور پھر اگر یہ دنده میعاد کے اندر پورا بھی ہو جائے تو خدا تعالے کے فضل سے پورا ہوگا۔تمہارے متعلق نہیں سمجھا جائے گا تو تم نے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی مشق۔پھر جس قسم کی مالی مشکلات میں سے اس وقت ہمارا اسلسلہ گذر رہا ہے ان کی موجودگی میں ہماری موجودہ مالی قربانیاں ہرگز کافی نہیں ہیں۔اور ہم ان کاموں کو کبھی بھی ایک لمبے عرصہ تک جاری نہیں رکھ سکتے۔اس کے لئے ہمیں اپنے بجٹوں پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔اور ہمیں اپنے طریق تبلیغ پر بھی نظر ثانی کرنی پڑے گی اور ہمیں اپنے سارے کارکنوں سے ایسے رنگ میں قربانی لینی پڑے گی جس رنگ میں ان سے پہلے کبھی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ مالی دقتوں کے لحاظ سے، اب وقت آگیا ہے کہ تم اپنے مبلغین سے بھی یا تو آفریدی طور پر خدمت لیں یا اس صیفہ کو بالکل بند کر دیں۔آخر نظر یک جدید میں جو مبلغ کام کر رہے ہیں وہ آنریری کام کر رہے ہیں۔اور یا پھر نہایت ہی قلیل گزارہ لے رہے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ اگر تحریک جدید کے مجاہد اس ترقبیل گزارہ پر کام کر سکتے ہیں تو دوسرے مبلغین کام نہ کر سکیں۔اور اگر حالات پیدا ہوں تو ان کے سابقہ طریق میں تغیر نہ کیا جائے اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو سلسلہ کے کارکن ہیں ان کے لئے بھی مزید قربانیوں کے درواز کھولے جائیں گے۔مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کو اسی وقت ان قربانیوں کی توفیق ملے گی جب وہ تحریک جدید کے اصول کے پابند ہوں گے۔اگر وہ ان اصولوں کی پیروی نہیں کریں گے تو انہیں قربانی کی توفیق ہرگز نہیں ملے گی کیونکہ جو شخص تیاری نہیں کرتا وہ امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس اے دوستو ! جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے واقعہ کو سنتے اور اس کی یاد میں بکرا یا گائے یا دنبہ ذبح کرتے ہو تمہیں یاد رہے کہ بکرے یا گائے کی قربانی کرنا آسان ہے مگر اپنی جان اپنے مال اپنے آرام اور اپنی آسائش کی قربانی کرنامشکل ہے حضرت ابراہیم نے