خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 199

199 جسے ہر انسان ہر روز ہی ادا کر رہا ہے اور اس میں کوئی اچنبھا نظر نہیں آتا۔اس نے اپنے اگلے بیٹے کو زمین پر گرایا۔اور چھری اپنے ہاتھ میں پکڑ لی۔اور اس کام کو جو بظا ہر خلاف فطرت نظر آتا ہے۔ایسے شوق سے کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔گویا انسان پیدا ہی اس کام کے لئے کیا گیا ہے۔انسان ابراہیم کے فعل کو دیکھ کہ حیران رہ جاتا ہے۔اور چونکہ ابراہیمی کے زمانہ کو ایک لمبا عرصہ گذر چکا ہے۔ایک مذہب سے ناواقف اور ابراہیم کی خوبیوں سے جاہل انسان یہ خیال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید ابراهیم دلعونی باشند، دیوانہ تھا، شاید وہ انسانی جذبات سے عاری تھا شاید بنی نوع انسان میں وہ سب سے زیادہ سخت دل اور سب سے زیادہ شقی القلب تھا۔کہ اس چیز کی قربانی کے لئے آمادہ ہو گیا جس چیز کی قربانی کے لئے ایک جاہل اور اجڈ انسان بھی تیار نہیں ہوتا۔ایسے ہی لوگوں کے شک کو ڈور کرنے کے لئے اللہ تعالے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَعِلِيمُ أَوَاهُ مُّنِي ابراہیم تو بہت ہی دانا بڑا ہی نرم دل اور خدا تعالے کا عشق رکھنے والا انسان تھا یعنی ایک ذرا سی ، کچھ درد کی بات دیکھ کر اس کے دل کو ٹھیس لگ جاتی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو اور اس کے مونہہ سے آہیں نکلنے لگ جاتی تھیں۔اور وہ تکلیف سے بے تاب ہو جاتا تھا۔جب لوط کی قوم پر عذاب آیا تو اللہ تعالے نے وہ فرشتے جو اس عذاب کی تکمیل کے لئے ارسال فرمائے خواہ وہ انسان تھے یا حقیقی ملائکہ تھے، میکس اس موقعہ پر اس بحث میں نہیں پڑتا وہ پہلے ابراہیم ہی کے پاس آئے اور ان کو بتایا کہ اس اس طرح لوط کی قوم پر عذاب آنیواں ہے اس وقت ابرا نسیم کے قلب کی جو حالت ہوئی اور ان کافروں کے مارے جانے کی خبر یہ جو دیکھ ان کو پہنچا۔قرآن کریم میں اور بائیبل میں اس کا ذکر موجود ہے۔شاید وہ مائیں بھی اس طرح بنتا ہے نہ ہوئی ہوں گی جن کے بچے اس عذاب میں تباہ ہوئے جس طرح ابراہیم ان کی موت کی خبر شنکر بے تاب ہوا۔اور وہ لوگ جو اس کے ہم مذہب اور بھائی اور پھر ساتھ ہی علاقی بھائی یعنی ایک نبی کو دکھ دے رہے تھے اور ہر روز اسے ایڈا میں پہنچا رہے تھے جب ان کی تباہی کی خبرا براہیم کو سنائی گئی تو وہ خوش نہیں ہوا۔اس نے بے پرواہی بھی ظاہر نہیں کی وہ گھبرا کر اٹھا اور اس نے اپنے خدا کے سامنے رو رو کر التجا شروع کی کہ اے میرے خدار اسے میر سے خدا کیا تو اس شہر کو ہلاک کر دے گا۔جبکہ اس میں تیرے نیک بندے بھی موجود ہیں۔اور اگر ہزاروں بد ہیں تو سینکڑوں نیک بھی ہوں گے۔تب خدا نے ابراہیم کے رحم اور اس کے دکھ کو دیکھتے ہوئے فرمایا۔اسے ابراہیم ! میں تیری خاطر اگر سین کر دوں نیک بندے وہاں ہونگے تو اس شہر کو بچا لوں گا۔تب ابراہیم نے سمجھا کہ شاید اس شہر میں سینکڑوں نیک بندے