خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 200

موجود نہیں ہیں اور اس نے کہا۔اے خدا کیا اگر ایک سو نیک بندہ ہو گا تو تو اس کو تباہ ہونے دے گا۔تب اللہ تعالے نے کہا۔نہیں اگر ایک سو نیک بندہ بھی ہوا تب بھی ہیں اس شہر کو تباہی سے بچالوں کا تب ابراہیمؑ نے سوچا شاید سونیک بندہ بھی اس شہر میں نہیں ہے۔اور اس نے دعا کی اے میرے خدا۔اسے میرے خدا ! جو سو نیک بندوں کے لئے اس شہر کو بیچا ہے کے لئے آمادہ ہے اگر صرف دس اس میں سے کم ہوں اور نوے نیک بندے اس جگہ پر موجود ہوں تو کیا تیری سی رحیم ہستی صرف دس آدمیوں کی کمی کیوجہ سے اس شہر کو تباہ ہونے دے گی تب خدا نے کہا۔اسے ابراہیم! اگر نوتے نیک بندے بھی اس شہر میں موجود ہوئے تو میں تیری خاطر اس کو تباہی سے بچالوں گا تب ابراہیم پھر نئے جوش سے دعا کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے خدا تعالے سے عرض کیا کہ اسے میرے رحیم خدا۔جو ٹوٹے نیک بندوں کی خاطر اس علاقے کو بچانے کے لئے تیار ہے اگر صرف دس نیک بندے اس میں سے کم ہوں اور صرف انٹی نیک بند نے اس میں پائے جائیں۔اے میرے رب کیا تو اُن انٹی کی خاطر اس شہر کو نہیں بچائیگا تب اللہ تعالے نے فرمایا۔اسے ابراہیم ہیں ان انتی کی خاطر بھی اس شہر کو بچا لوں گا۔اور ابرا ہیم کی امید اور بھی کم ہوگئی اور وہ سمجھ گیا کہ اس شہر میں انٹی نیک بندے بھی موجو د نہیں ہیں۔مگر اس نے دعا نہ چھوڑی اور دس دس کے فرق کے ساتھ وہ خدا کی رحمت کو جوش میں لاتا گیا یہاں تک کہ آخری دعا اس کی یہ تھی کہ اے میرے خدا۔اسے میرے خدا۔دس نیک بندے بھی تو بڑی چیز ہیں۔اگر دس نیک بندے اس شہر میں پائے جاتے ہوں تو اسے میرے رب کیا تو اس شہر کو ہلاک ہونے دے گا۔اللہ تعالے نے جواب دیا۔ابراہیم میں تیرے درد کی خاطر اس نیک بندوں کی موجودگی میں بھی اس شہر کو بچا لونگا ایک لیکن ابراہیم اس میں تو دس نیک بندے بھی موجود نہیں۔تب ابراہیم نے سمجھ لیا کہ لوط اور اس کی اولاد کے سوا اس شہر میں سے کوئی بچائے جانے کے قابل نہیں ہے، اور اس نے جان لیا کہ ان کمزور اور گنہگار بندوں کے بچانے کے لئے جو لوط کی بستیوں میں بستے تھے شفاعت کے تمام سامان ختم ہو گئے اور وہ اس بارے میں بالکل بے ہیں اور بے طاقت ہے اور وہ درد اور دُکھ کے ساتھ اپنی ہی جان کو ہلکان کرتا ہوا خاموشی سے بیٹھ گیا۔اور اس کے دل کا یہ درد اور اس کے جذبات کی یہ نزاکت اللہ تعالے کو ایسی پسند آئی کہ اللہ تعالے قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَعَلِيْمُ أَوَّاهُ مُّنِيْب۔ابراہیم کو دیکھو کہ یہ ہمارا بندہ کیسا دانا۔پھر کیسا دردمند ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی تکلیف پر ہیں بھر نے لگ جاتا اور دُکھ اور تکلیف محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔اور ہمارا بھی کیسا عاشق ہے۔یہ کیسے پیارے الفاظ ہیں جن میں خدا تعالے ابراہیم کو یاد کرتا ہے۔اب اگر ہم تمثیل کی نگاہوں سے