خطبات محمود (جلد 2) — Page 10
دیکھو مجمع میں کسی کا بچہ گم ہو جائے۔اور پھر ایک دو گھنٹہ کے بعد جب وہ بچہ اپنے باپ سے ملتا ہے تو بچہ کو اور باپ کو کس قدر خوشی ہوتی ہے۔اسی طرح خدا تعالے سے بھیڑ کا جوا بندہ تب خدا سے ملتا ہے اور خدا کے حضور پہنچتا ہے تو بندے کو بھی خوشی ہوتی ہے اور اللہ تعالے بھی رضی ہوتات نپس حقیقی عید اگر ہے تو نہی ہے اور یہ عید تو اس عید کی طرف راہنما ہے بعید بھی تھے۔میں اور وطن میں ہی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ایک شخص جنگل میں ہو۔چاروں طرف درندے ہوں ڈاکو ہوں۔جان خطرے میں ہو۔اسے عید کی کیا خوشی ہو سکتی ہے۔عید تو اس کی ہے جو گھر میں ہو۔رشتہ داروں میں ہو۔احباب میں ہو۔خطرات سے مامون ہو۔اسی طرح جو انسان خدا کی راہ سے بھڑکا ہوا ہے۔ضلالت کے جنگل میں مارا مارا پھر رہا ہے اس کی حقیقی عید کیا ہو سکتی ہے۔بعید تو خوشی کا نام ہے اور خوشی دل کے اطمینان، دل کی راحت سے پیدا ہوتی ہے۔تمام محبتوں کا مرکز تو اللہ تعالے ہے۔اسی سے کامل محبت چاہیئے اور اسی سے محبت ہو سکتی ہے۔پس خوشی بھی اسی کو حاصل ہوگی اور حقیقی عید بھی اسی کی ہوگی جو اپنے مولیٰ کے حضور پہنچا ہو گا کیونکہ تمام قسم کی راحتوں، خوشیوں بعیدوں کا سر شیعہ تو وہی پاک ذات ہے۔اسی حالت کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی عیدیں آجکل ما تم بن گئی ہیں۔عید آئی اور ان کے گھروں میں جھگڑا شروع ہوا بیری زیوار کے لئے۔بچے کپڑوں کے لئے چلا رہے ہیں۔کھانے کا سامان نہیں سو الگ۔پھر مفروض ہو کہ تمام سال دُکھ میں گزارتے ہیں۔یہغیر یں اس لئے نہ تھیں بلکہ یہ عیدیں تو اپنے اندر ایک اور ہی حقیقت رکھتی تھیں جس سے آجکل کے مسلمان بالعموم فاضل ہیں۔ماہ صیام کی عید میں تو یہ بتایا کہ انسان کو اس وقت کے لئے تیار رہنا چاہیئے جب اس کے مولی کی طرف سے مناد آئے۔وہ کھانے پینے ، بیوی بچوں کے اشتغال سے وقت نکال کر اس کے انصار میں داخل ہو سکے۔جیسا کہ وہ ماہ رمضان نہیں یہ مشق کرتا رہا ہے۔اور عید قربان میں سکھایا کہ نہ صرف بیرونی انعامات سے بلکہ اندرونی انعامات سے بھی اگر علیحدگی اختیار کرنی پڑے اور اپنی جان قربان کرنی پڑے تو بھی دریغ نہ ہو۔جب یہ حالت تم میں پیدا ہوگی تو پھر تمہاری عید ہی عید ہے۔خدا کے نبی آکر یہی عہد لیتے ہیں اور سعادت مند یہ اقرار کرتے ہیں فَاسْتَجَابَ لَهُمْ ربكم۔اور ان کا مولے اسے شرف قبولیت بخشتا ہے۔چونکہ بندوں نے ایک عہد کیا۔اس لئے خدا بھی اس کے مقابل پر جزائے خیر دنیا ہے۔اور ارشاد فرماتا ہے۔آت لا أضِيعُ عَمَل عامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى - میں کسی کام کرنے والے کا کام ضائع نہیں کرتا۔مرد ہو یا عورت۔حیرت آتی ہے کہ بعض پور میں مصنفین نے لکھا ہے ہے کہ اسلام تو عورتوں میں روح