خطبات محمود (جلد 2) — Page 170
15۔کے ہاں دل سے ایک بار کہنے والے کا درجہ زیادہ ہوگا۔بعض لوگوں کے دل کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ایک بار کہتا ہے مگر جیسے بتاشہ توڑ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کے دل کی کیفیت ہو جاتی ہے اس کا ایک دفعہ کہنا دوسرے کے ہزار دفعہ کہنے سے بھی زیادہ ہے۔میں علمی طور پر دوسروں کے متعلق اور اپنے تجربہ کی بناء پر اپنے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ بعض دفعہ دس میں دفعہ کی تشبیح سے اتنا اثر نہیں ہوتا اور بعض دفعہ ایک بار سے ہی بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔تو یہ دل کی کیفیات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مجھے یاد ہے کہ مولوی عبد الکریم فضا کی وفات کے بعد آپ نے مسجد میں بیٹھنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ مجلس دینی اور روحانی لحاظ سے بہت مفید ہوتی تھی۔اس لئے کسی نے عرض کیا کہ آپ بیٹھتے کیوں نہیں۔تو آپ نے جواب دیا کہ جب میری نظر مولوی عبد الکریم صاحب کی جگہ پر پڑتی ہے تو دل گھٹنے لگتا ہے مگر کئی ایسے ہوں گے جن پر ذرا بھی اثر نہ ہوتا ہو گا۔اب اگر کوئی تھے کہ دیکھیں میں کتنا صابر ہوں کہ اسی جگہ روز بیٹھتا ہوں اور حضرت مسیح موعود صابر نہیں ہیں کیونکہ آپ نہیں بیٹھتے تو یہ اس کی غلطی ہے۔ہم اسے سنگدل کہ سکتے ہیں صابر نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ بہت سخت بیمار تھا اور آپ خود بھی بیمار تھے اسے دیکھنے کے لئے گئے تو نزع کی حالت تھی۔آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ایک صحابی پاس کھڑے تھے۔کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ بھی روتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔اللہ تعالے نے تمہاری طرح مجھے سنگدل نہیں بنا یا۔وہ صحابی بھی نیک تھے مگر ان کے دل میں ابھی سختی تھی اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ زیادہ صابر ننھے بلکہ یہ ہیں کہ ان کے دل میں اتنی خشیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔پس قربانیوں کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ثواب کا درجہ احساس سے ہے۔جوں جوں احساس کم ہوتا جائے گا۔اتنا ہی قربانی زیادہ کرنے کی ضرورت پیدا ہوتی جائے گی۔اس لئے مومن کو ہمیشہ قربانیوں میں ترقی کرنی چاہیئے۔اور دوسرے کے درد کو محسوس کرنا چاہیئے۔ایک شخص کسی مصیبت کو دیکھتا ہے مگر درد محسوس نہیں کرتا تو اسے سمجھ لینا چاہیئے کہ اس کے احساسات سخت ہیں تو جنوری کے مہینہ میں بتا رہیں زلزلہ آیا ہے لیے اس نے لاکھوں کو تباہ کر دیا ہے اور مجھے اس بات کا احساس ہے کہ ہماری جماعت نے اپنے مقام کے لحاظ سے ان مصیبت زدگان کے لئے وہ قربانی نہیں کی جو کرنی چاہیئے تھی۔میں نے اس کے لئے تحریک کی مگر دو ہزار سے زیادہ چندہ نہ آیا حالانکہ جماعت لاکھوں کی ہے۔اس زلزلہ سے جو تباہی آئی وہ بہت سخت ہے اور اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زبر دست نشان ظاہر ہوا ہے۔۲۰-۲۵ ہزار جائیں ضائع ہو چکی ہیں مگر میری تحریک کا بہت کم اثر ہوا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بس بہت کم