خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 171

161 لوگوں میں ہے باقیوں نے یا تو توجہ نہیں کی یا کی ہے تو بہت قلیل - حالانکہ قربانی وہی ہے جو نفس کو دکھ میں ڈالتی ہے اور اس کے متعلق ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ وہ عادت سے آگے بڑھ کر کی جائے اور جب قربانی کرتے ہوئے کوئی احساس ہی نہ ہو تو انسان سمجھ لے کہ اس کا قدم منزل کی طرف جا رہا ہے۔پس اس عید سے جو قربانی کی عید ہے۔ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قربانی کی قیمت احساس کے مطابق ہوتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے احساسات بہت زیادہ تھے اس لئے اگر چہ بظاہر ان کی قربانی بہت کم نظر آتی ہے۔مگر خدا کے ہاں وہ بہت زیادہ ہے جس کا دل پہلے ہی انگاروں پر لوٹ رہا ہو اس کا اپنے بچہ کو ذبح کر دینا کوئی معمولی قربانی نہیں۔پس خوب یا درکھو کہ ترقی کا گر نہیں ہے کہ جب قربانی کی جس کم ہو جائے تو اسے بڑھایا جائے۔اور کوئی ایسی قربانی نہیں جسے کرتے کرتے انسان کو عادت نہ ہو جائے۔اس لئے مومن کو ہر دم سے آگے بڑھنا پڑے گا۔اللہ تعالے ہمیں توفیق دے کہ اس کی راہ میں سچی قربانیاں کر سکیں اور ایسے رنگ میں کر سکیں کہ ابراہیمی فضل کو جذب کرنے والے بن جائیں۔خطبہ ثانیہ میں فرمایا۔عید الفطر کے موقعہ پر میں نے تحریک کی تھی کہ عید اضحی کے موقعہ پر احباب اپنی قربانیوں میں سے گوشت کا ایک حصہ مشترکہ انتظام میں غرباد کو تقسیم کرنے کے لئے دے دیں مادہ گوشت چندا حباب کے گھروں میں ہی چکر نہ کھاتا رہے اور ٹربا ومستحقین کو بھی میسر آسکے۔مجھے امید ہے کہ دوست اس پر عمل کریں گے۔کوشش کی جائے کہ سب قربانیاں آج ہی ہو جائیں۔اور اپنے کھانے اور اعزہ کو تقسیم کرنے کے لئے جتنا ضروری ہو، اتنا گوشت رکھ کر باقی مشتر کہ انتظام میں دے دیا جائے ہے مثلاً ہمارے ہاں تو قربانیاں ہوں گی۔اور میں نے کہ دیا ہے کہ ان میں سے تین اپنے کھانے اور رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کے لئے رکھ کہ باقی سب اسی انتظام میں دیدی جائیں۔میرے رشتہ دار خدا کے فضل سے زیادہ ہیں۔پانچ تو سسرال ہی ہیں۔پھر ان کے بھی کئی کئی رشتہ دار ہیں۔لیکن جن کے رشتہ دار کم ہوں وہ زیادہ دے سکتے ہیں اور اس طرح مواخات سلسلہ کو کم سے کم عید کے روز ہی عمدہ طریق پر پیش کیا جا سکتا ہے۔والفضل ۳ را پریل ۱۹۳۳ء میتان) له - روحانی خزائن و خطبه العام جلد ۱۶ ۳۳۴ مجمع بحارالانوار هیله من - خیر الجالس مرتب حمید شاعر القلد یک ناشر امریکیر پر جون مارکیٹ کراچی "