خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 154

۱۵۴ کے دشمن اس کے گھر سی کے لوگ ہوں گے یا یہ مقام ہے جو الٹی جماعتوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔بے شک یہ ایک موت ہے اور بے شک شخص ہمت نہیں کر سکتا کہ وہ ان شد اند کو پراشت کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اور بے شک انسان خیال کرتا ہے کہ آہ ! میرا بھائی مجھ سے جدا ہو جائے گا۔میری مصیبت میں کون میرے کام آئیگا۔نوکر خیال کرتا ہے کہ اگر میں نے اپنے آقا سے علیحدگی اختیار کرلی تو میری ملازمت جاتی رہے گی۔تاجر خیال کرتا ہے کہ اس کی تجارت کو ضعف پہنچ جائے گا۔آقا خیال کرتا ہے کہ اس کے ماتحت اس سے بدظن ہو جائیں گے۔بیوی سمجھتی ہے میرا خاوند مجھ سے چھٹ جائیگا اور خاوند خیال کرتا ہے کہ میری بیوی مجھ سے علیحدہ کر لی جائیگی۔بے شک انسانی قلوب میں یہ خیالات پیدا ہوتے ہیں مگر انہیں خیالات کو خدا تعالے نکالنا چاہتا ہے اور وہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ مومن صرف مجھ پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے عزیز و اقارب میں سے کسی کی پرواہ نہیں ہو سکتی۔یہ عید گیا ہے؟ یہ قربانی کی عید ہے یہ عید یہ متبلانے کے لئے آئی ہے کہ مومن کو اللہ تعالے کے دین کے لئے اگر اپنی اولاد کو قربان کرنا پڑے تو وہ اس سے دریغ نہ کرے اگر اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا چاہے تو وہ اس سے دریغ نہ کرے۔اگر اپنی جان کی قربانی دینی پڑے تو اس سے دریغ نہ کرے اگر وجاہت کی قربانی کرنی پڑے تو اس سے دریغ نہ کرے غرض ہر چیز خدا کے لئے قربان کرے۔مگر جتنی بڑی یہ قربانی نظر آتی ہے انعام کے مقابلہ میں یہ کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وادی غیر ذی زرع میں اپنے بیوی اور بچہ کو رکھا تو بے شک کہنے والے کہتے ہوں گے کہ شخص کتنا پاگل ہے۔ایک بے آب و گیاہ جنگل میں اپنے ہاتھوں اپنی اولاد کو ہلاک کر رہا ہے۔لیکن اگر ان کو وہ ترقی نظر آجاتی جو آج حضرت ابراہیمؑ کی اولاد کو حاصل ہے۔اگر انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کارہ پھیلاؤ نظر آ جاتا جو آج نظر آرہا ہے۔اور اگر انہیں حضرت ابراہیم کی وہ عظمت دکھائی دیتی وہ نبوت کا سلسلہ انہیں نظر آجاتا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں چلا۔پھر دنیومی فتوحات اور حکومتیں بھی دکھائی دیتیں تو میں سمجھتا ہوں ہر شخص ترلے کرتا اور کہنا مجھے بھی اجازت دیجئے کہ میں اپنی اولاد کو یہاں چھوڑ جاؤں۔وہ نمرود جو اپنی بادشاہی پر گھمنٹ ڈرکھتا تھا جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر اسے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظمت نظر آجاتی تو وہ اپنی ساری عمر سجدے میں گذارہ دیتا اور دعا کرتا رہتا کہ میری اولاد کو یہاں رہنے کی اجازت مل جائے۔مگر اس وقت شہر شخص دوست ہو یا دشمن کہتا ہوگا بڑھنا سٹھیا گیا ، اس کی عقل میں فتور واقع ہو گیا۔یہ اپنے بیٹے اور پلوٹے بیٹے کو جو بڑھاپے میں اسے نصیب ہوا ، ایسی جگہ پر چھوڑ رہا ہے جہاں نہ پانی ہے نہ آدمی۔رہا