خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 125

۱۲۵ اب اگر کوئی شخص کہے کہ کسی کے تھوڑے تھوڑے کان کاٹ ڈالے جائیں تو کیا ہرج ہے۔اس کی سماعت میں تو بے شک بہت تھوڑا فرق آئے گا۔مگر اس کی زینت میں فرق ضرور آجائے گا۔پس کسی چیز کو کامل بنانے کے لئے بعض باتیں اس کی زینت کے لئے ہوتی ہیں اور یہ قربانی ایسی حکمتوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی بھی نہیں یاد دلاتی ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ آلہ وسلم نے اس عید کو کھانے پینے کا دن کیا ہے کہ یہ بظا ہر امران ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔بلکہ قوموں میں زندگی کا احساس اور امنگ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تحفہ تحائف تقسیم کرنے کے لئے دن مقرر کئے جائیں اور عید کے دن بھی گوشت بانٹا جاتا ہے۔نکہ میں آج کے دن اس قدر بکرے ذبح کئے جاتے ہیں کہ گوشت کھانے والا کوئی نہیں ملتا مگر پھر بھی قربانیاں کی جاتی ہیں۔گوشت سکھایا بھی جاسکتا ہے۔سکھانا بھی جائز رکھا گیا ہے اس لئے سکھا کر اپنے لئے رکھنا بھی جائز ہے اور غربار میں تقسیم بھی کیا جاتا ہے ہے لیکن اگر مائع بھی ہو جائے تو بھی قربانی ضروری ہے روحانی امور سے تعلق رکھنے والے اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں بعض صحابی دن رات مسجد میں بیٹھے رہتے تھے کہ شاید حضور باہر تشریف لے آئیں اور وہ کسی بات کے سننے سے محروم رہ جائیں یہ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ وہ وقت ضائع کرتے تھے لیکن نہیں وہ بہت بڑی خدمت کر رہے تھے۔حضرت ابو ہریرہا کے بھائی ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی حضور ابو ہریرہ مقام دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔مجھے تمام دن محنت کرنی پڑتی ہے آپ اسے سمجھائیں کہ کام کیا کرے۔آپؐ نے فرمایا کہ تمھیں کیا معلوم خدا اسی کے طفیل تھیں بھی رزق دے رہا ہے ہے تو اصل میں وہ لوگ وقت ضائع نہیں کرتے تھے بلکہ بہت بڑے ثواب کا کام کرتے تھے۔پھر رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص مسجد میں آکر ہم کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ بھی گویا عبادت میں ہی ہوتا ہے یہ اصل میں خدا تعالی دیکھتا ہے کہ انسان میری راہ میں کس قدر قربانی کے لئے آمادہ ہے۔اگر معمولی قربانی کے لئے تیار ہے تو بڑی کے لئے بھی تیار ہو سکے گا۔اگر تمام بکرے ذبح کر کے گوشت پھینک دیا جائے تو بھی ثواب ہے۔مگر یہ گوشت تو غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اگر بیچ رہے تو پرندوں کو ڈال دیا جائے جن کا حق قرآن کریم نے بھی رکھا ہے کے یعنی جانوروں کا۔پس اگر گوشت پھینک دیا جائے اور کہتے اور چیلیں اُسے کھا جائیں تو بھی یہ ثواب کا موجب ہے۔اس قدر فوائد قربانی کے اندر ہیں کہ خواہ اسلام پر کس قدر بھی مصیبت کے دن آئیں توبھی -